The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی میت گھر پہنچ گئی

کراچی: امریکی ریاست ٹیکساس میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی میت کو اس کے گھر پہنچا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سبیکا شیخ کی میت لانے والی غیر ملکی پرواز ٹی کے 708 نے پاکستانی وقت کے مطابق تین بج کر  32 منٹ پر ایئرپورٹ پر لینڈ کیا جبکہ اس موقع پر کارگو ٹرمینل پر میت کی وصولی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، سبیکا شیخ کے اہل خانہ نے میت وصول کی، بعد ازاں میت کو گھر پہنچایا گیا۔

قومی پرچم میں لپٹی سبیکا شیخ کی میت کو ایئرپورٹ پر اے ایس ایف اہلکاروں کی جانب سے سلامی پیش کی گئی جس کے بعد جسد خاکی کو ورثا کے حوالے کیا گیا جو میت کو لے کر گھر پہنچے، جبکہ گھر میں عزیز واقارب کی بہت بڑی تعداد تعزیت کے لیے موجود ہے۔

علاوہ ازیں کارگو ٹرمینل پر قائم مقام امریکی قونصل جنر ل سمیت پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فیصل واوڈا جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی اور ناصر شاہ بھی موجود رہے۔

اہل خانہ کے مطابق مقتولہ کی نماز جنازہ آج صبح 9 بجے گلشن اقبال میں واقع بیت المکرم مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین عظیم پورہ قبرستان شاہ فیصل میں ہوگی جس کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔

مقتولہ سبیکا شیخ کے گھر میں اس وقت اداسیوں کے ڈیرے ہیں اور لواحقین غم سے نڈھال ہیں جبکہ گھر میں تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔


جنرل جوزف کا آرمی چیف سے رابطہ، سبیکا کی ناگہانی موت پر اظہار تعزیت


خیال رہے کہ 19 مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس میں شہرہوسٹن کے سانٹا فے ہائی اسکول میں طالبعلم کی فائرنگ سے پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ سمیت 10 طالبعلم جاں بحق ہوگئے تھے۔

پاکستانی طالبہ ایکسچینج ایئر پروگرام کی طالبہ تھی، وہ 21 اگست 2017 کو یوتھ ایکسچیج اینڈ اسٹڈی پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کرنے امریکا گئی تھیں اور 6 جون کو اُن کی وطن واپسی تھی۔


ہیوسٹن میں پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی نمازجنازہ کی ادائیگی


علم کی شمع کو تقویت دینے کے لیے امریکا جانے والی پاکستانی طالبہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال کی رہائشی تھیں وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی اور ذہین تھیں، والدہ ، بہن بھائی اور لواحقین غم سے نڈھال ہیں اور مقتولہ کے کمرے میں رکھی شیلڈ و اعزازت کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں