site
stats
اہم ترین

وزیراعلیٰ بلوچستان نے استعفیٰ دے دیا، سرفرازبگٹی کا دعویٰ

کوئٹہ : وزیر داخلہ سرفرازبگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نےاستعفیٰ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ سرفرازبگٹی نے سماجی رابطے کی ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ الحمداللہ وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری مستعفی ہوگئے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد گورنرہاؤس پہنچے ، جہاں انکی گورنرمحمدخان اچکزئی سے ملاقات جاری ہے ، ملاقات میں سیاسی صورتحال اورتحریک عدم اعتماد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل زرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا تھا، وزیراعظم نے نوازشریف کی مشاورت سے نواب ثنااللہ زہری کو مستعفی ہونے کی تجویز دی تھی۔

تاہم ترجمان وزیراعلیٰ بلوچستان جان اچکزئی نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو استعفے کا مشورہ نہیں دیا، وزیراعظم سے ملاقات معمول کے مطابق تھیں ، وزیراعلیٰ بلوچستان کے استعفے کی خبرمیں کوئی صداقت نہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری استعفیٰ نہیں دےرہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسمبلی فورپرثابت کردیں گےاکثریت کس کےپاس ہے، تحریک عدم اعتمادکاڈٹ کرمقابلہ کریں گے، اپوزیشن کےدعوےصرف سیاسی بیانیہ ہے، میں یہ نہیں کہتاکہ ہماری حکومت آئیڈیل ہے،شکایتیں تھیں، پیپلزپارٹی،ق لیگ بھی اس میں پیش پیش ہیں۔


مزید پڑھیں :  ثنااللہ زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد آج پیش کی جائے گی


یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری آج ہوگی، صوبائی اسمبلی کا اجلاس چار بجے ہوگا۔

قدوس بزنجو نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن میں شامل جے یو آئی ف کے 8،ق لیگ کے 5، بی این پی مینگل کے 2، بی این پی عوامی، اے این پی، مجلس وحدت مسلمین، اور نیشنل پارٹی کا ایک ایک جبکہ ایک آزاد اور ن لیگ کے 22 میں سے 18 ارکان تحریک عدم اعتماد پر ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

ن لیگ کے ایک اوررکن اسمبلی مخالف گروپ میں شامل اکبر آسکانی نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کردی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا دعویٰ ہے کہ 40 ارکان ساتھ ہیں، تحریک عدم اعتماد کی ہوا نکال دیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top