site
stats
عالمی خبریں

سعودی عرب: غیر ملکی باشندوں پر ٹیکس لگانا بہت نقصان دہ ہوگا، ماہرین

ریاض: معاشی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے غیر مقامی افراد پر عائد کردہ لیوی ٹیکس غیر ملکی ملازمین اور تاجروں دونوں پر مالی بوجھ بنے گا، معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، تعمیراتی، غذائی اور اشیائے صرف مہنگی ہوجائیں گی۔

گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے یکم جولائی سے ملک بھر میں موجود تمام غیر ملکی باشندوں سے 100ریال فی کس کے حساب سے لیوی ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 2020ء تک ہر سال 100 ریال کا اضافہ ہوگا اور یہ بڑھتے بڑھتے 400 ریال ماہانہ تک جا پہنچے گا۔


یہ پڑھیں: سعودی عرب: یکم جولائی سے ہر غیر ملکی 100 ریال ماہانہ ٹیکس ادا کرے گا


درحقیقت یہ ٹیکس سعودی عرب میں موجود ان تمام غیر ملکی باشندوں کے اہل خانہ پر عائد کیا گیا ہے جو کہ سعودی عرب میں مقیم ہیں کیوں کہ اگر کوئی غیر ملکی کسی کمپنی میں ملازم ہے تو اس کے حصے کا لیوی ٹیکس کمپنی پہلے ہی ادا کررہی ہے، لیکن اب اس ملازم کو اپنے اہل خانہ کے ہر فرد کے حساب سے 100 ریال یکم جولائی سے ادا کرنے ہوں گے۔

یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ اس ٹیکس کا بوجھ کس کے کندھوں پر ہوگا؟ تاہم اطلاعات ہیں کہ کچھ کمپنی مالکان نے یہ ٹیکس اپنے ملازمین کے اوپر عائد کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں کیوں کہ یہ ہر اگلے برس بڑھتا رہے گا۔

کویت فنانشل سینٹر ’’ مرکز‘‘ کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ایم آر رگھو نے گلف نیوز کو بتایا کہ اس ضمن میں انہوں نے تارکین وطن کی جانب سے کئی مقدمات لڑے ہیں۔

وہ کمپنیاں جہاں غیر ملکی ملازمین کی تعداد مقامی ملازمین سے زیادہ ہے وہ ہر غیر ملکی ملازم کے عوض 200 ریال پہلے ہی ادا کررہی ہیں، فیس کا اطلاق صرف غیر ملکی ملازم پر ہے سعودی شہریت کے حامل ملازم پر نہیں تاہم اب یکم جولائی سے لے کر 2020ء تک یہ ٹیکس بتدریج بڑھایا جارہا ہے اور اضافہ ان کمپنیوں کے لیے بھی ہوگا۔

جہاں غیر ملکی کم اور مقامی زیادہ ہیں وہاں بھی ٹیکس معاف نہیں ہوگا

خیال رہے کہ ایسی کمپنیاں جہاں غیر ملکی ملازمین کی تعداد مقامی ملازمین سے کم ہے انہیں بھی ہی ٹیکس معاف نہیں ہوگا تاہم انہیں رعایت دی جائے گی۔

غیر ملکی ملازمین کاروباری اداروں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں

کاروباری تجزیہ کار ایم آر رگھو نے بتایا کہ سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جو اس معاملے پر کاروباری اداروں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

کاروباری اداروں میں اشیا کی لاگت بڑھ جائے گی

انہوں نے کہا کہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس ٹیکس کے عائد ہونے سے کاروباری اداروں میں اشیا کی لاگت بڑھ جائے گی، جن کمپنیوں میں سعودی ملازمین مقامی سے زیادہ ہیں انہیں بھی زیادہ موثر چھوٹ نہیں ہے لیکن انہیں تھوڑی رعایت دینا پڑے گی۔

 ہر سال بڑھتے ہوئے ٹیکس سے کمپنی کی بھی پریشانی بڑھے گی

رگھو کا کہنا تھا کہ جس آرگنائزیشن میں غیر ملکی ملازمین زیادہ ہیں، ہر سال بڑھتے ہوئے لیوی ٹیکس کی وجہ سے اس کی پریشانی بھی بڑھتی جائے گی، ایسے غیر ملکی ملازمین جن کے اہل خانہ ان کے ساتھ یہاں مقیم ہیں ان کے لیے ہر ماہ لیوی ٹیکس کی رقم تنخواہ سے علیحدہ کرکے رکھنا بہت مشکل ہوگا۔

غیر ملکی ملازمین کی بچت کم ہوجائے گی

ان کا کہنا تھا کہساتھ ہی لیوی ٹیکس کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گی اور لوگوں کو بھاری اخراجات،کچھ عرصے بعد لگنے والے ویلیو ایڈڈ ٹیکس، مہنگے فیول، اشیائے صرف اور مہنگی غذائی اشیا کا سامنا کرنا ہوگا جس کی وجہ سے غیر ملکی ملازم کی مالی بچت ختم ہوجائے گی۔

نجی سیکٹر کا انحصار ہی غیر ملکی ملازمین پر ہے

معاشی تجزیہ کار رگھو نے کہا کہ اس ٹیکس سے غیر ملکی باشندوں کی بچت میں بتدریج کمی آئے گی، غیر ملکی معشیت کے لیے اس وقت تک بہترین ہیں جب تک وہ اپنے کاروبار کی طرف توجہ نہیں دیتے، بالخصوص نجی سیکٹر کا انحصار ہی غیر مقامی باشندوں پر ہے۔


یہ ضرور پڑھیں: سعودی عرب میں ’’ گناہ ٹیکس‘‘ عائد


خیال رہے کہ سعودی عرب نے چند روز قبل ہی ایکسائز ٹیکس عائد کیا ہے جس عرف عام میں سن ٹیکس یعنی گناہ ٹیکس کے نام سے جانا جاتا ہے ، ایکسائز ٹیکس تمباکو سے بنی ہر قسم کی اشیا (سگریٹس بھی)، سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کے بعد سے متعدد اشیا کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں۔

اب یکم جولائی سے غیر ملکیوں پر لیوی ٹیکس لگایا جارہا ہے جب کہ کچھ عرصے بعد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ)بھی نافذ کیا جائے گا، ان محصولات عائد کرنے کا مقصد تیل کی کم ہونے والی قیمتوں کے سبب پیدا شدہ مالی بحران کو دور کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

لیوی ٹیکس کی مد میں سعودی حکومت کو 2020ء تک 65 ارب ریال آمدنی ہوگی

گلف نیوز کے مطابق سعودی عرب میں غیر ملکی باشندوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، لیوی ٹیکس عائد کرنے سے سعودی عرب حکومت کو 2020ء تک 65 ارب سعودی ریال کی آمدنی متوقع ہے۔

یہ ٹیکس بہت نقصان دہ ثابت ہوگا، رکن سعودیہ چیمبر آف کامرس

واضح رہے کہ لیوی ٹیکس عائد کرنے سے قبل ہی سعودیہ عرب کی رائل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن عبداللہ المغلوتھ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس سے پرائیوٹ سیکٹر اور کنٹریکٹرز پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

تعمیراتی، غذائی اور اشیائے صرف مہنگی ہوجائیں گی، عبداللہ المغلوتھ

سعودی گزٹ کے مطابق عبداللہ المغلوتھ نے کہا تھا کہ اس ٹیکس کے عائد ہونے سے تعمیراتی، غذائی اور اشیائے صرف کی لاگت میں اضافہ ہوجائے گا جس کا مقامی شہریوں کو بھی نقصان پہنچے گا، یہاں قائم کاروباری ماحول متاثر ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top