The news is by your side.

Advertisement

سعودی حکومت کی اداروں کو ملازمتوں سے متعلق خاص ہدایات

ریاض : سعودی حکومت نے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں سعودی نوجوانوں کی تعیناتی سے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے عمل درآمد کیلئے اداروں کا 5 ماہ کا وقت دے دیا۔

ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے، ہدایت پر عمل درآمد کیلئے اداروں میں ہونے والی بھرتیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی۔

وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود آبادی کی جانب سے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں 30 فیصد سعودائزیشن کے لیے5ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کردی گئی۔

مقررہ مدت کے بعد اکاؤنٹنگ میں سعودائزیشن نہ کرنے والے اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، سعودی ذرائع ابلاغ کے مصدقہ ذرائع کے مطابق وزیر افرادی قوت کی جانب سے گزشتہ ہفتے چھوٹے اداروں میں موجود غیر ملکی اکاؤننٹس کی جگہ سعودی کارکنوں متعین کرنے کا ہدف دیا گیا تھا۔

اس ضمن میں وزیر افرادی قوت انجینئراحمد سلمان الراجحی کی جانب سے جاری بیان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اکاؤنٹنگ کے شعبے میں 30 فیصد سعودائزیشن کی جائے گی۔

گزشتہ ہفتے وزیر افرادی قوت کی جانب سے جاری ہونے والے قانون میں نجی شعبے میں اکاؤنٹنگ کے لیے ڈیڈ لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم ذوالقعدہ 1442 ہجری سے اکاؤنٹنگ میں سعودائزیشن پر عمل درآمد کے حوالے سے چیکنگ کا آغاز کر دیا جائے گا۔

سعودی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزارت افرادی قوت کی جانب سے اکاؤنٹنگ کے شعبے میں سعودی کارکنوں کو متعین کرنے کے لیے خصوصی امداد بھی جاری کرے گی جبکہ اس شعبے میں سعودی نوجوانوں کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بہتر انداز میں کام کر سکیں۔

سعودی ذرائع ابلاغ کا مزید کہنا ہے کہ وزارت نے اکاؤنٹنگ کے لیے 19 شعبوں میں سعودائزیشن کا عندیہ دیا ہے جن میں فنانس ڈائریکٹر، انٹرنل بجٹ اینڈ اکاؤنٹس ڈائریکٹر، ڈائریکٹر شعبہ مالیات، ڈائریکٹر شعبہ ٹیکسیشن اینڈ زکوۃ ، انٹرنل آڈٹ ڈائریکٹر، جنرل آڈٹ ڈائریکٹر، فنانس آبزرور، جنرل اکاؤنٹنٹس، آڈیٹرز کے علاوہ مالیاتی شعبہ سے متعلق تمام پیشے اس فہرست میں شامل ہیں۔

وزارت نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ 5 ماہ کے دوران پرائیوٹ سیکٹر میں اکاؤنٹنگ کے شعبوں میں سعودائزیشن کے قانون پر عمل کرنا لازمی ہے بصورت دیگر ان کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

ایسے ادارے جہاں مقررہ مہلت کے دوران سعودی کارکنوں کو متعین نہیں کیا جائے گا ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے تمام اکاؤنٹنگ سے متعلق سرکاری امور سیز کردیئے جائیں گے جس کے بعد ان اداروں کو نہ تو ویزوں کا اجرا ہو گا نہ ہی انہیں مذکورہ شعبوں میں کفالت کی تبدیلی کی اجازت دی جائے گی۔

وزارت افرادی قوت کی جانب سے پہلے ہی بڑے اداروں میں اکاؤنٹنگ میں اہم ذمہ داریاں جن میں چیف اکاؤنٹس آفیسر، ڈائریکٹر ٹیکس، فنانس ڈائریکٹر ، انٹرنل آڈیٹر اور کیشیئرز شامل ہیں کو سعودیوں کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اکاؤنٹس کے شعبے میں سعودائزیشن کا عمل کافی عرصہ سے مرحلہ وار جاری ہے۔ بڑے اداروں میں اکاؤنٹس کے شعبے میں غیر ملکی کارکنوں کو تعینات نہیں کیا جاسکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں