The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : سیکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث دہشت گرد کو سزائے موت

ریاض : سعودی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ جدہ میں گزشتہ سال  ایک سیکیورٹی اہلکار کے قتل کا الزام ثابت ہوجانے پر داعش سے تعلق رکھنے والے  ایک دہشت گرد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ نے بیان میں کہا ہے کہ مصری شہری ولید سامی الزھیری نے 12 نومبر 2020کو جدہ میں سیکیورٹی اہلکار ھادی بن مسفر القحطانی کو ہلاک کردیا تھا۔ سیکیورٹی اہلکار پر نماز فجر کے دوران چھری سے حملہ کیا گیا تھا۔

سیکیورٹی اہلکار ھادی بن مسفر القحطانی ڈیوٹی پر تھے اور نماز کے لیے پٹرول اسٹیشن پر رکے تھے۔ بیان کے مطابق سیکیورٹی فورس نے ملزم کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران اقبال جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی نجی جھگڑا نہیں تھا۔ دہشت گرد تنظیم داعش سے وابستگی کی بنا پر حملہ کیا تھا۔

ولید سامی الزھیری پر قتل اور دہشت گردانہ تنظیم سے وابستگی کی فرد جرم عائد کرکے اسپیشل فوجداری کی عدالت کے حوالے کیا گیا تھا۔
اپیل کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے بھی سزا کی توثیق کردی تھی جبکہ ایوان شاہی نے عدالتی فیصلے پرعمل درآمد کا فرمان جاری کردیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے ایک ادارے کے مطابق گذشتہ سال ملک میں موت کی سزا پانے والے افراد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

سعودی ہیومن رائٹس کمیشن (ایس ایچ آر سی) نے بتایا ہے کہ سال 2020 میں 27 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔ ادارے کے مطابق یہ تعداد سال2019 کے مقابلے 85 فیصد کم ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ منشیات سے متعلق جرائم پر سزائے موت دیے جانے میں غیر اعلانیہ طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس طرح کم سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو دوسرا موقع دیا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں