The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں نائٹ کلب کا افتتاح، سعودی حکام کا تحقیقات کا آغاز

ریاض : سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں نائٹ کلب کا افتتاح کردیا گیا تاہم اسلامی قوانین کے نفاذ کے باعث کلب میں شراب پیش نہیں کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں مشرقِ اوسط کے ایک مقبول نائٹ کلب نے اپنی ایک شاخ کا افتتاح کردیا ہے، یہ نائٹ کلب سعودی عرب میں حالیہ برسوں کے دوران میں تفریح کے نام پر دی جانے والی آزادیوں اور بعض سماجی پابندیوں کے خاتمے کا ایک نیا مظہر ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں نائٹ کلب کے قیام کے باوجود مملکت میں نافذ اسلامی قوانین کے تحت اس کلب میں شراب پیش نہیں کی جائے گی۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نائٹ کلب سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں سمندر کنارے قائم کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کے باوجود نائٹ کلب میں لباس سے متعلق سخت ضابطہ اخلاق نافذ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ مملکت کے ضابطہ لباس کے تحت خواتین مکمل ستر والا لباس پہننے اور برقع اوڑھنے کی پابند ہیں۔

ایڈمنڈ ہاسپٹلیٹی کلب کے مینجر ابلاغیات سرجی ٹراڈ نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ وائٹ کلب سعودی عرب میں ایک ماہ تک کھلا رہے گا، اس کا امریکی فن کار ’نی یو‘ کے فن کے مظاہرے سے آغاز ہورہا ہے۔

مسٹر ٹراڈ کا کہنا ہے کہ اس کلب کے لیے ’عام اسمارٹ‘ لباس ہوگا، اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کلب میں آنے والی خواتین کو کھلے ملبوسات پہننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ٹراڈ نے بتایا ہے کہ اس کلب کے انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کے پیروکاروں کی تعداد گیارہ ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کے ناقدین کی رپورٹ کے بعد اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر بند کردیا گیا ہے۔

نائٹ کلب کی افتتاحی تقریب کے خلاف تحقیقات کا آغاز

دوسری جانب عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے نائٹ کلب کی افتتاحی تقریب کی متنازعہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور نائٹ کلب کی افتتاحی تقریب کے ماحول اور جگہ پر سوالات اٹھنے کے بعد قانونی طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ کچھ سوشل میڈیا صارفین اور کچھ مقامی خبر رساں اداروں کی جانب سے کہا ہے کہ مذکورہ تقریب معروف نائٹ کلب کے افتتاح کے موقع پر منعقد ہوئی تھی لیکن تقریب اور کلب میں شراب نوشی اور شراب پیش کرنے پر پابندی ہے۔

سعودی حکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ ’حکام کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ تقریب (پروجیکٹ ایکس) قانونی طریقہ کار اور ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور مذکورہ پروگرام کی حکام نے تصدیق بھی نہیں کی تھی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے کسی اور پروگرام کے لیے لائسنس جاری کیا تھا۔ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ کانٹریکٹر نے لائسنس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے سنجیدہ اور ناقابل قبول خلاف ورزی کی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں