The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : کن قیدیوں کو شاھی معافی اور رہائی ملے گی؟

ریاض : خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی جانب سے سعودی عرب کی جیلوں میں قید سرکاری حق کے قیدیوں کی رہائی کے احکامات پر جلد عمل درآمد کا آغاز کردیا جائے گا۔

سعودی عرب میں محکمہ جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر جنرل نے سرکاری حق کے قیدیوں کی معافی سے متعلق قواعد و ضوابط بیان کیے ہیں۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق مملکت کی تمام جیلوں میں موجود وہ تمام قیدی جن پر شاہی معافی کے ضوابط لاگو ہوں گے۔ انہیں جلد رہا کردیا جائے گا۔

محکمہ جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ شاہی معافی سے ایسے قیدیوں کو فائدہ نہیں ہوگا جو اساتذہ اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے مرتکب ہوئے ہوں گے۔ ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والوں کو بھی اس سے فائدہ نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ مالیاتی و محکمہ جاتی، بدعنوانی کے جرائم، امانت میں خیانت، رشوت ستانی، سرکاری عہدے کے بے جا استعمال، کرنسی اور سرکاری دستاویزات میں جعلسازی، شہریت کے قانون کی خلاف ورزی، اسلحہ و گولہ بارود، بوگس چیک اور دھماکہ خیز اشیا بنانے، ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کے جرائم کے قیدیوں کو بھی اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

منشیات استعمال کرنے، معمولی مقدار میں منشیات ذخیرہ کرنے والے رہا کردیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں پہلی بار منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات کے سزابیافتگان بھی رہا کیے جائیں گے۔ نشہ آور اشیاء استعمال کرنے یا دھندے یا اسمگلنگ کے لیے ذخیرہ کرنے والے بھی معافی کے مستحق ہوں گے۔

والدین کی نافرمانی کے جرائم کے قیدیوں کو بھی رہائی ملے گی۔ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے قیدیوں کی باقی ماندہ سزا معاف کردی جائے گی۔ چوری کی چوتھائی سزا کاٹنے والوں کو بھی رہا کردیا جائے گا۔ غیرملکیوں کو بھی معافی کے شاہی حکم سے فائدہ ہوگا۔

علاوہ ازیں بالقصد قتل جیسے قتل کے جرائم کے وہ قیدی بھی رہا کردیے جائیں گے جو قید کی نصف مدت گزار چکے ہوں اور نجی حق ادا کرچکے ہوں۔

بوڑھے، معذور اور رشوت کے جرائم کے ایسے قیدیوں کو بھی رہا کردیا جائے گا جن کی انتہائی سزا دو برس سے کم ہوگی۔ اسی طرح جعل سازی کے ان سزا یافتگان کو بھی رہائی مل جائے گی جو قید کی چوتھائی مدت گزار چکے ہوں۔

ایسے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو بھی رہا کردیا جائے گا جو واردات کے وقت اٹھارہ برس سے کم عمر ہوں گے اور انہیں سبق سکھانے کے لیے قید کی سزا سنائی گئی ہوگی- اس معافی سے ریاستی سلامتی، قتل عمد، اغوا اور آبرو ریزی کے مقدمات کے مجرموں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں