The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیرملکیوں کیلئے اقامہ، رہائش اور ویزے سے متعلق کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں؟

ریاض: سعودی عرب میں ملازمت کے نئے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے متعلقہ ادارے قوانین کے حوالے سے مرحلہ وار وضاحتیں پیش کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اس مرتبہ بھی سعودی وزارت افرادی قوت نے شہریوں کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے جن میں اقامہ فیس، رہائش اور ویزوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزارت کے کسٹمرکیئر شعبے سے ایک شخص نے دیافت کیا کہ نئے قوانین کے تحت اب کارکن کا اقامہ اور اس پرعائد فیس ’مقابل المالی‘ کی ادائیگی کس کے ذمہ ہوگی؟۔ جس پر کہا گیا کہ یہ ذمے داری آجر پر عائد ہوگی اور وہ ہی اس کی فیس ادا کرنے کا بھی مجاز ہوگا۔

ایک صارف نے سوال کیا کہ میرا اقامہ ایکسپائر ہوچکا ہے لیکن میں خروج ونہائی پر جانا چاہتا ہوں کیسے ممکن ہے؟ کسٹمرکیئر نے وضاحت پیش کی کہ اس کے لیے کارآمد اقامے کا ہونا لازمی ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ بالا وضاحتوں کے علاوہ رہائش سے متعلق معلومات بھی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے گائیڈ بک سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

سعودی عرب: نیا معاہدہ، غیرملکیوں کے ویزوں سے متعلق گائیڈ بک جاری

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود نے نئے معاہدے کے تحت چند صورتیں وضع کیں جن کے تحت اجیر کو آجر کی منظوری کے بعد ملازمت تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا۔ عام حالات میں ملازمت کی تبدیلی کے لیے کارکن آجر کے پاس ایک سال کام کرے گا، اگر مصدقہ معاہدہ نہ ہو تو ملازمت کی تبدیلی ممکن ہے۔

اسی طرح غیر ملکی ملازم کو مسلسل تین ماہ تک تنخواہ نہ ملے تو وہ ملازمت تبدیل کرسکتا ہے۔

معاہدے کے تحت اگر کسی ملازم کا ورک پرمٹ یا اقامہ ختم ہوچکا ہے تو ایسی صورت میں بھی ملازمت کی تبدیلی ہوگی۔ آجر کے لاپتہ ہونے پر بھی ورکر کو اجازت دی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں