The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب، خواتین نے آن لائن ٹیکسی چلانا شروع کردی

ریاض: سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے کے بعد اب آن لائن سروس کی ٹیکسی کو خواتین ڈرائیورز نے چلانا شروع کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق امل فرحت کو پہلی خاتون کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، امل صحت عامہ میں کوالٹی ایشورینس کی ڈگری کی حامل ہیں اور صحت کے شعبے میں معیار کو برقرار رکھنے سے متعلق ایک مشاورتی کمپنی چلا رہی ہیں۔

مصروفیت کے باوجود امل فرحت نے آن لائن ٹیکسی سروس میں کار چلانے کا ارادہ کیا ہے اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ سعودی خواتین کسی بھی شعبے میں کام کی بخوبی صلاحیت رکھتی ہیں۔

امل فرحت کے مطابق خواتین ان کے ساتھ سفر میں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں کیونکہ انہیں مرد ڈرائیورز کے ساتھ سفر کی صورت میں جو مسائل درپیش ہوسکتے ہیں انہیں میں بخوبی سمجھتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرینر نے بتایا تھا کہ ڈرائیورز کو ہراساں کیا جاسکتا ہے، مجھے اس ضمن میں کمپنی کی طرف سے بہت معاونت حاصل ہوئی ہے، اگر کوئی مسافر نامناسب حرکت کرتا ہے تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک پروٹوکول موجود ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد پہلا حادثہ

دوسری خاتون البلوشی نے بطور ڈرائیور اپنا نام کا اندراج کرایا ہے، انہوں نے ایک مسافر خاتون کو اس کی جائے منزل پر پہنچایا تھا اور یوں اپنا پہلا سفر مکمل کیا۔

البلوشی کے مطابق ان کی ٹیکسی کمپنی نے 20 سال سے زائد عمر اور کارآمد ڈرائیونگ لائسنس کی حامل سعودی خواتین سے درخواستیں طلب کی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں