The news is by your side.

Advertisement

نامعلوم سعودی شیخ نے دیت ادا کرکے پاکستانی قیدی کو رہا کرادیا

جدہ: سعودی عرب کی جیل میں گزشتہ ایک سال سے قید پاکستانی ٹرک ڈرائیور رستم خان غربت کے باعث اپنی دیت کی رقم ڈھائی لاکھ ریال کا بندوبست نہیں کرپارہا تھا تاہم اس دوران ایک سعودی شخص نے خاموشی سے جیل پہنچ کر رقم ادا کی اور ٹرک ڈرائیور کو قید سے آزادی دلوائی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں مزدوری کی غرض سے جانے والے پاکستانی ڈرائیور رستم خان کے ٹرک کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار جاں بحق ہوا جس کے بعد عدالتی فیصلے کی روشنی میں ٹرک ڈرائیور کو گزشتہ ایک سال قبل جیل بھیج دیا گیا تھا۔

کم آمدنی کے باعث رستم خان پہلے ہی بمشکل گزارہ کرنے پر مجبورتھا تاہم  حادثے کے بعد سعودی عدالتوں نے  رہائی کے لیے ڈھائی لاکھ سعودی ریال خون بہا (دیت) کے طور پر جرمانہ عائد کیا تھا‘ جسے ادا کرنا اُس کے لیے ناممکن تھا۔

عدالت سے جرمانے کی سزا سننے کے بعد پاکستانی ڈرائیور نے کئی بار رقم جمع کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے ‘ انہوں نے مدد طلب کرنے کے لیے ایک سوشل میڈیا کے توسط سے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا مگر اُس میں بھی ناامیدی کا سامنا رہا اور انہیں مایوس ہوگئے تھے۔


پڑھیں: سعودی عرب: 4 برس کے دوران 7662 پاکستانی گرفتار،فہرست تیار


رستم خان نے مدد کے لیے جاری ہونے والے اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ دیت کی رقم ادا کرنے کے لیے اپنا گردہ تک فروخت کرنے کو تیار ہیں‘ اس پیغام کی سوشل میڈیا پر بہت تشہیر ہوئی جس کے بعد مقامی سعودی شیخ نے اس کا نوٹس لیا۔

نفسا نفسی اور پیسوں کے حصول  والی دنیا میں تاحال ایسے لوگ موجود ہیں جو خاموشی سے حاجت مندوں کی امداد کرتے ہیں اور اپنی شناخت کے حوالے سے کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتے۔

سعودی شیخ نے ویڈیو دیکھنے کے بعد خاموشی سے تھانے جاکر دیت کی رقم ڈھائی لاکھ ریال ادا کیے جس کے بعد پاکستانی ٹرک ڈرائیور کو رہائی ملی‘ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں سعودی اداکار فائز المالکی مخاطب تھے اور اعلان کررہے تھے کہ’’ایک مخیر شخص نے دیت کی رقم ادا کردی ہے اور اُس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی ہے‘‘۔


مزید پڑھیں: سعودی عرب کا پاکستانی تاجروں کو 2 سال کا ملٹی پل ویزا دینے کا اعلان


اس ویڈیو کلپ میں فائز المالکی ڈھائی لاکھ ریال کی رقم گن رہے تھے اور پھر اس کو رستم خان کے ایک رشتے دار کے حوالے کررہے تھے۔ متوفیٰ فوجی اہلکار کے والدین خون بہا لینا نہیں چاہتے تھے‘اس لیے یہ رقم اس کے وارثوں کو ادا کر دی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں