بنکوں کے منافع میں حیرت انگیز اضافہ -
The news is by your side.

Advertisement

بنکوں کے منافع میں حیرت انگیز اضافہ

کراچی : اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے بینکنگ سیکٹرکی 30 جون 2015 کو اختتام پذیر ہونی والی دوسری سہہ ماہی کی کارکردگی جاری کردی ہے جس کے مطابق بنکوں کے منافع میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

30 جون 2015ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے بینکاری شعبے کی کارکردگی کا سہ ماہی جائزہ (QPR) اسٹیٹ بینک نے آ ج جاری کر دیا ہے جس کے مطابق سال بسال بنیادوں پر بینکاری شعبے کے بعد از ٹیکس منافع میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں سودی و غیر سودی آمدنی دونوں کا حصہ ہے۔ اس لیے جون 15ء میں اثاثوں پر منافع جون 14ء کے 2.1 فیصد سے بڑھ کر 2.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ شرح کفایت سرمایہ CAR 17.2 فیصد کی مستحکم سطح پر رہی جو 10 فیصد کی مقامی شرط اور 8 فیصد کے بین الاقوامی نشانیہ (benchmark) سے خاصا زیادہ ہے۔

سہ ماہی کے دوران بینکاری شعبے کی اثاثہ جاتی بنیاد میں 5.7 فیصد (19.2 فیصد سال بسال) نمو ہوئی جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 3.4فیصد تھی۔ اثاثوں میں بیشتر اضافہ سرکاری شعبے کی مالیاتی ضروریات اور اجناس کی کارروائیوں کے لیے قرضوں کی نمو میں اضافے کا نتیجہ تھا۔ مجموعی اثاثوں میں سرمایہ کاریوں کے حصے میں اضافہ ہوتا رہا جس کا سبب حکومتی تمسکات کے اسٹاک میں نمو تھی۔

جائزے کے مطابق جون 15ء میں اثاثہ جاتی معیار میں کچھ بگاڑ دیکھا گیا کیونکہ غیر فعال قرضے NPLs 1.6 فیصد اضافے (5.8 فیصد سال بسال) کے ساتھ بڑھ کر 630 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ تاہم، خام قرضوں (4.7 فیصد) میں تناسب سے زیادہ اضافے کے باعث غیر فعال قرضوں اور خام قرضوں کا تناسب 39 بی پی ایس کمی کے بعد 12.4 فیصد ہو گیا جبکہ خالص غیر فعال قرضوں اور خالص قرضوں کا تناسب اپریل تا جون 2015ء کے دوران 18 بی پی ایس کمی کے بعد 2.7 فیصدہو گیا۔ فنڈنگ کے لحاظ سے ڈپازٹس کی بنیاد میں بتدریج نمو سے اثاثہ جاتی نمو کی مالکاری (Financing) کے لیے درکار وسائل کی فراہمی میں مدد ملی۔ سہ ماہی کے دوران 7.9 فیصد کے صحت مند اضافے (13.6 فیصد سال بسال) کے ساتھ بینکوں کے ڈپازٹس جون 15ء میں بڑھ کر 9.97 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔

اسٹیٹ بینک دسمبر 2014ء سے بینکاری شعبے کی سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ شائع کر رہا ہے۔ جون 15ء کی کارکردگی کا سہہ ماہی  جائزہ  درج ذیل لنک پر دستیاب ہے


 

اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار


 

 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں