The news is by your side.

یہ تصویر فلسطین کے ایک اسکول کی ہے، جسے اسرائیلی فورسز نے تباہ کر دیا

مغربی کنارہ: فلسطین میں قابض اسرائیلی فورسز نے فلسطینی بچوں کے ایک پرائمری اسکول کو بھی مسمار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو گئی ہے، جس میں ایک مسمار اسکول کے ملبے کو دیکھا جا سکتا ہے، جس پر پینٹ کیا ہوا ہے: ’’یہ ایک اسکول تھا۔‘‘

واقعے کے مطابق 28 نومبر کو قابض اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے علاقے مسافر یتہ میں واقع اسفے الفوقہ اسکول کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسمار کیا، جس میں فلسطینی بچے علم کی روشنی حاصل کر رہے تھے۔

یہ واقعہ بھی فلسطینیوں کی زندگی کو ناقابل برداشت بنا کر علاقے سے باہر نکالنے کی ریاستی کوششوں کا ایک حصہ ہے، جس پر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اسکول کی مسماری کے بعد احتجاج کرنے والے کچھ فلسطینیوں نے دنیا کو پیغام دینے کے لیے اس کے ملبے پر لکھا: ’’یہ ایک اسکول تھا۔‘‘

اسرائیلی فوج کی جارحیت میں 2 بھائیوں سمیت 5 فلسطینی نوجوان شہید، 8 زخمی

واضح رہے کہ اسکول کو اسرائیلی عدالت کے نام نہاد فیصلے پر مسمار کیا گیا، اس سے قبل اسرائیل نے اس علاقے کو ’فائرنگ زون‘ قرار دیا تھا، اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے ان کے علاقوں کو ’فائرنگ زون‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔

عدالت کو جھوٹے شواہد پیش کر کے بتایا گیا تھا کہ اس علاقے میں فلسطینیوں کی رہائش نہیں تھی۔ مسافر یتہ ریاست فلسطین کے ہیبرون گورنری میں، جنوبی مغربی کنارے میں 19 فلسطینی بستیوں کا ایک مجموعہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں