5 سال بعد ہماری زمین پر ڈائنو سار بھی ہوں گے -
The news is by your side.

Advertisement

5 سال بعد ہماری زمین پر ڈائنو سار بھی ہوں گے

ڈائنو سار ہماری زمین پر ساڑھے 6 کروڑ سال قبل پائے جانے والے جاندار تھے جو معدوم ہوگئے۔

گو کہ اس وقت زمین ان کے رہنے کے لیے نہایت موزوں مقام تھا تاہم اب اگر ڈائنو سار دوبارہ آ موجود ہوں تو عمارتوں سے بھرے ہمارے شہر ان کا وزن نہیں سہار سکیں گے اور یوں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگلے 5 سے 10 سال میں ڈائنو سار پھر سے ہماری زمین پر آسکتے ہیں اور اس کے لیے ماہرین کی کوششیں جاری ہیں۔

ماہر رکازیات اور جینیات پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر جیک ہارنر کا کہنا ہے کہ اگر زمین پر موجود جانوروں کی جینیات میں کچھ تبدیلیاں کردی جائیں تو صرف ڈائنو سار ہی کیا زمین سے معدوم ہوجانے والے تمام جاندار پھر سے پیدا ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر جیک نے جراسک پارک سیریز کی تمام فلموں میں کام کرنے والی ٹیم کی بھی مدد کی ہے جس سے وہ خاصی حد تک درست ڈائنو سار پردہ اسکرین پر پیش کرسکے۔

ان کی ٹیم کچھ عرصے قبل ایسا ہی ایک کامیاب تجربہ بھی کرچکی ہے جس کے بعد برفانی دور کے معدوم ہوجانے والے میمتھ کے پیدا ہونے کا بھی امکان ہے۔

میمتھ

ہاتھی سے ملتا جلتا یہ اونی جانور برفانی دور کا تھا اور ہاتھی سے ملتے جلتے نوکیلے دانت بھی رکھتا تھا تاہم ان دانتوں کا حجم موجودہ دور کے ہاتھی سے بھی بڑا تھا۔

ٹیم نے رکازیات سے ملنے والے اس جانور کے جینز کو ہاتھی میں منتقل کیا جس کے بعد اس جانور کی پیدائش کے امکانات پیدا ہوگئے۔

ڈاکٹر جیک کے مطابق زمین پر اس وقت موجود پرندے دراصل ڈائنو سار ہی ہیں چنانچہ یہ کام زیادہ مشکل نہیں، بس ان کے ارتقا کا پہیہ پیچھے چلانا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ پرندوں کے جینز میں تبدیلی سے یہ باآسانی پھر سے ڈائنو سار بن جائیں گے۔

ڈاکٹر جیک اپنے اس دعوے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس پر کام بھی شروع کرچکے ہیں۔

ان کی ٹیم نے کچھ عرصہ قبل ایک پرندے کے انڈے میں جینیاتی تبدیلیاں کیں جس کے انڈے سے نکلنے والے پرندہ چونچ کے بجائے ڈائنو سار سے ملتا جلتا منہ رکھتا تھا۔

ڈاکٹر جیک اپنے اس پروجیکٹ میں کتنے کامیاب ہوں گے، اور آیا ان کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا یا تعریف ملے گی، یہ وقت ہی بتا سکے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں