The news is by your side.

سائنس دان مکمل انسانی جینوم سیکونس تیار کرنے میں کامیاب

سائنس دانوں نے پہلی مرتبہ انسانی جینوم کا مکمل سیکونس تیار کرلیا ہے، یہ جینوم ڈی این اے کے ہزاروں چھوٹے سلسلوں پر مشتمل ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سائنس دانوں نے مکمل انسانی جینوم سیکونس تیار کرلیا ہے، جینوم سیکونس 2003 میں پہلی مرتبہ بنائے گئے تھے مگر انسانی جینوم کے لگ بھگ 8 فیصد حصے کا سیکونس نامکمل رہ گیا تھا جسے 20 برس میں بھی مکمل نہیں کیا جاسکا تھا۔

جینوم کو اب سائنس دانوں نے وہ باقی ماندہ جینوم سیکونس تیار کرلیا ہے۔

اب سائنسدانوں کے تیار کردہ اس جینوم سیکونس کو ٹی 2 ٹی سی ایچ ایم 13 کا نام دیا گیا ہے جو بہت بڑی پیشرفت قرار دی جارہی ہے۔

اس وقت ڈاکٹر جی آر سی ایچ 38 نامی جینوم کو استعمال کرکے امراض سے منسلک میوٹیشنز کو تلاش کرتے ہیں یا سائنسدان انسانی جینیاتی ورژن میں ارتقا کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ آپ کا جینوم وہ معلومات ہیں جو انسانی جسم کی تعمیر اور اسے صحت مند رکھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

سیکونس کے حوالے سے تحقیقی مقالہ طبی جریدے جرنل نیچر میتھوڈز میں شائع ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں