The news is by your side.

Advertisement

پلاسٹک کی بوتلوں کا حیرت انگیز اور ذائقہ دار استعمال

لندن : برطانوی سائنسدانوں نے استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلوں کو ونیلا کے ذائقہ میں تبدیل کرنے کیلئے تحقیق پر کام شروع کردیا ہے، اس تجربے کے نتیجے میں کاسمیٹکس دواسازی ، صفائی ستھرائی کے سامان میں استعمال کیا جاسکےگا۔

پلاسٹک کی استعمال شدہ بوتلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر آلودگی پھیل رہی ہے اس نے نہ صرف انسانوں بلکہ اب جانوروں کی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔

برطانوی جریدے گرین کیمسٹری میں تحقیق کے شائع ہونے والے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلوں کو ونیلا کے ذائقہ میں تبدیل کرنے کیلئے ویلین نامی کیمیکل استعمال کیا جائے گا۔

پلاسٹک کی لعنت سے نمٹنے کی کوشش میں سائنس دانوں نے پہلے سے ہی ٹیلیفیلک ایسڈ (ٹی اے) اتپریٹک انزائم تیارکرلئے تھے جو بوتلوں کے لئے بنیادی اکائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے

محققین نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے ٹیلیفیلک ایسڈ (ٹی اے) کو وینلن میں تبدیل کرنے کے لئے بیکٹیریا استعمال کیے ہیں۔وینلن ایک ایسا کیمیکل ہے جو کھانے اور کاسمیٹکس کی صنعت میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے اسے دواسازی ، صفائی ستھرائی کے سامان اور جڑی بوٹیوں سے دوچار ایک اہم کیمیکل بھی سمجھا جاتا ہے۔

وینلن کی طلب میں گذشتہ کچھ سالوں میں اضافہ ہوا ہے، اعدادوشمار کے مطابق اس کی طلب سال 2018 میں 37،000 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اس تحقیق کی اہمیت یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی جوانا سڈلر نے بھی بیان کی ہے۔

جوانا سڈلر نے کا کہنا ہےکہ پلاسٹک کے فضلے کو قیمتی صنعتی کیمیائی شکل میں استعمال کرنے کے لئے حیاتیاتی نظام کو استعمال کرنے کی یہ پہلی مثال ہے اور اس کے معیشت پر بہت موثر اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے نتائج پلاسٹک کے استحکام کے میدان میں بڑے اثرات مرتب کرتے ہیں اور مصنوعی حیاتیات کی طاقت کو حقیقی دنیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ظاہر کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج اب جریدے گرین کیمسٹری میں شائع ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں اگلے مرحلے میں سائنس دان اس کی شرح کو مزید بڑھانےکے لئے بیکٹیریا کو مزید موافقت دینے کی کوشش کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں