آزاد کشمیر کے بارے میں 7 حقائق جن کا جاننا ضروری ہے -
The news is by your side.

Advertisement

آزاد کشمیر کے بارے میں 7 حقائق جن کا جاننا ضروری ہے

یومِ یکجہتی کشمیر پرہم آپ کو بتارہے ہیں آزاد کشمیر کے بارے میں کچھ ایسے حقائق جن کا دنیا کے سامنے آنا بے حد ضروری ہے، یہ اس حسین تریم وادی خصوصیات ہیں جسے جنتِ ارضی  بھی کہا جاتا ہے۔

آزاد جموں کشمیر   ماضی  میں سابق ریاست کشمیر کا حصہ ہوا کرتا تھا، یہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مغرب میں واقع ہے ،  اس ریاست کے جنوب میں پاکستان کا صوبہ پنجا ب ہے جبکہمغرب میں  صوبہ خیبر پختونخواہ کی سرحد لگتی ہے ۔ کشمیر کی آسان ترین قدرتی رسائی پاکستان سے ہی ممکن ہے ، یہ اسلام آباد سے محض 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

حکومتی انتظام

آزاد کشمیر، پاکستان کے زیر اہتمام ایک خود مختار ریاست ہے، جہاں باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ آزاد کشمیرکا اپنا صدر، وزیر اعظم اور قانون ساز اسمبلی ہے جبکہ اس کا اپنا قومی پرچم بھی ہے۔

آزاد کشمیر کی پاکستانی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے بلکہ اپنا خود مختار نظامِ حکومت ہے، اس کی اپنی سپریم کورٹ اورہائی کورٹس بھی ہیں۔ ریاست کا دارالحکومت مظفر آباد ہے۔

معیشت

آزاد کشمیر کی معیشت کی بنیاد زراعت اور سیاحت پر مبنی ہے ۔ یہاں ہونے والی پیدا وار کو دنیا میں بہترین تسلیم کیا جاتا ہے  اور 87 فیصد آبادی  فارم کی مالک ہے۔ سیاحت کے حوالے سے اسے جنتِ عرضی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر بھارت کی جانب سے گزشتہ سات دہائیوں سے جارحیت کے سبب  خطے کے حالات کشیدہ نہ ہوتے تو بلاشبہ یہ خطہ سیاحت میں سوئٹزر لینڈ کو پیچھے چھوڑدیتا۔ آزاد کشمیر کی معیشت میں  برطانیہ میں آباد میر پور شہر سے تعلق رکھنے والی کشمیری برادری کی جانب سے بھیجا جانے والا زرمبادلہ انتہائی اہمیت کا حاصل ہے۔

تعلیم کا تناسب

آزاد کشمیر میں تعلیم حاصل کرنے کی شرح 74 فیصد ہے اور  پاکستان کے کسی بھی علاقے کی نسبت آزاد کشمیر میں بچوں کے اسکول جانے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں پرائمری اسکول میں داخلہ لینے والے لڑکوں کا تناسب 98 فیصد جبکہ لڑکیوں کا تناسب 90 فیصد ہے، جو کہ پورے ملک  کے کسی بھی علاقے سے کہیں زیادہ ہے۔

کرکٹ اسٹیڈیم 

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک شاندار کرکٹ اسٹیڈیم بھی ہے جس میں  آٹھ ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک اور اسٹیڈیم میرپورشہر میں ہے جس کا نام قائد اعظم اسٹیڈیم ہے۔ اس اسٹیڈیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے  تزئین نو  کے مرحلے سے گزار کر عالمی معیار کے اسٹیڈیم میں تبدیل کیا تھا۔

سیاحتی مقامات

کشمیر کے لیے برصغیر کے عظیم صوفی شاعر امیر خسرو نے کہا تھا کہ دنیا میں اگر کہیں جنت ہے تو وہ کشمیر ہے۔ کشمیر کی وادی نیلم پاکستان کی وادی کاغان کے بالکل  مد مقابل ہے اور دونوں کے درمیان برف پوش پہاڑ قدر تی سرحد کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ وادی  اپنے ملکوتی حسن کے سبب دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ساتھ ہی ساتھ  مظفر آباد  سے 59 کلومیٹر کے فاصلے پر  وادی جہلم ہے جو کہ اپنے قدرتی حسن کے سبب مشہور ہے۔ وادی برال میں ڈوگرا دور کا قلعہ  سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے تو  بلاں نر اور نیارائن شریف بھی یہاں مشہور ترین سیاحتی مقامات ہیں۔

جنگلی حیات

اپنے محل و وقوع اور بے حد خوبصورت قدرتی ماحول کے سبب آزاد کشمیر کئی اقسام کی جنگلی حیات کا مسکن ہے، یہاں آپ کو تیندوے کے ساتھ ہمالیائی ریچھ بھی نظر آئیں گے ، تو مختلف اقسام کے ہرن اور مارخور بھی سیاحوں کو لبھانے کے لیے موجود ہیں۔ کئی اقسام کے پرندے اپنی سریلی بولیوں میں کشمیر آنے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

سیاحوں کے لیے ہدایات

پاکستان کے شہری آزاد کشمیر بنا کسی رکاوٹ کے با آسانی جاسکتے ہیں لیکن اگر آپ کا تعلق کسی اور ملک سے ہے تو سیاحت کے لیے آپ کو مظفر آباد میں قائم آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ سے اجازت لینا ہوگی۔ ان مقامات میں دھیر کوٹ، راولا کوٹ، چھوٹا گلہ، چکڑ، داؤ خان، مظفر آباد، منگیا اور سہنسا شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں