The news is by your side.

Advertisement

85 فی صد یورپی خواتین سیاست دان بھی تشدد اور جنسی ہراسانی کا شکار نکلیں

بروسلز: یورپی یونین کی نصف سے زائد خواتین سیاست دان اور پارلیمنٹری عملہ بھی جنسی ہراسانی کا شکار نکلا، جنھیں زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی زیادتی، قتل یا تشدد کی دھمکیاں ملیں۔

تفصیلات کے مطابق 85 فی صد یورپی خواتین سیاست دان بھی جنسی ہراسانی کا شکار نکلیں، حالیہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین سیاست دانوں کو بھی قتل، ریپ اور ان کے بچوں کو اغوا اور قتل کرنے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔

خواتین سیاست دانوں کو قتل، ریپ اور ان کے بچوں کو اغوا اور قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں

يورپی يونين کی رکن رياستوں سے تعلق رکھنے والی خواتين سياست دانوں اور ارکان پارليمان کے خلاف جنسی ہراسانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سروے میں معلوم ہوا کہ پچاسی فی صد عورتوں کو کبھی نہ کبھی نفسياتی دباؤ اور ذہنی تشدد کا سامنا رہا۔

سروے کے مطابق 68 فی صد کا کہنا تھا کہ ان کے لباس، جنس اور رنگ و نسل کی وجہ سے ان پر جملے کسے گئے، 25 فی صد عورتوں کا دعویٰ ہے کہ انھيں جنسی طور پر ہراساں بھی کيا گيا۔

مذکورہ رپورٹ يورپی پارليمنٹ کے ارکان کی ’انٹر پارليمينٹری يونين‘ اور ’پارليمينٹری اسمبلی آف کونسل آف يورپ‘ نے جاری کی، رپورٹ کے مطابق سروے ميں 45 يورپی ممالک کی 123 خواتین سے رائے لی گئی۔


یہ بھی پڑھیں:  سندھ کابینہ نے وفاقی خواتین تحفظ ایکٹ 2010 کی  منظوری دے دی


سروے میں معلوم ہوا کہ چاليس سال سے کم عمر عورتیں زیادہ نشانہ بنیں، عملے کی اراکين کی 49 فی صد تعداد کا کہنا تھا کہ انھيں دفتر ميں ہی ہراساں کيا گيا، 70 فی صد کيسز ميں ہراساں کرنے والے مرد سياست دان تھے۔

’انٹر پارليمينٹری يونين‘ کی صدر گبرائيلا کيوس نے کہا کہ میں اس صورتِ حال پر بہت پريشان ہوں، پارليمنٹس ميں جنسی ہراسانی کا مسئلہ ہمارے اندازوں سے زيادہ سنگین ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں