The news is by your side.

Advertisement

شب برأت: ’جن قبروں پر پھول نہیں ہوں گے وہاں ڈال دوں گا‘

کراچی: ملک بھر میں 15ویں شعبان کا آغاز ہوتے ہی لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر زیارت و فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں، شہر قائد میں واقع پھولوں کی مارکیٹ سے زائرین اور پھول فروشوں نے ریکارڈ خریداری کی۔

ملک بھر میں 15ویں شعبان کی رات مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے، اس ضمن میں لوگ قبرستان جاکر اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کے لیے خصوصی دعائی بھی کرتے ہیں۔

لیاقت آباد اور جہانگیر روڈ کے وسط میں واقع تین ہٹی پر واقع پھولوں کی مارکیٹ میں شب برأت کی خصوصی تیاریاں کی جاتی ہیں کیونکہ سندھ بھر سے لوگ یہاں آکر پھول خریدتے جن میں سے بیشتر بیوپاری بھی ہوتے ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں اور خصوصاً سندھ میں پیدا ہونے والے گلاب کے پھول اس مارکیٹ میں فروخت کے لیے لائے جاتے ہیں اور سارا سال ہی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تاہم شببرأت، عید بقرعید پر مارکیٹ میں خصوصی خریداری ہوتی ہے کیونکہ اپنے پیاروں کی قبروں پر جانے والا ہر شخص پھولوں کی پتیاں، اگر بتی، موم بتی، کیوڑے کی بوتل اور دیگر اشیاء ساتھ لے جاتے ہیں۔

پھولوں کی اس مارکیٹ میں کاروبار ہول سیل ریٹ پر ہوتا ہے اور خریدار زیادہ مال خریدنے کا پابند ہوتا ہے، جیسے کہ کم از کم پانچ کلوں پھول یا اُس کی پتیاں، نسبتاً یہاں کے ریٹ عام پھول فروخت کرنے والوں سے 50 روپے کم ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: رحمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والی شب برأت

مارکیٹ کے تاجروں ، بیوپاریوں سے جب پھولوں اور پتیوں کا ریٹ دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ پھول 250 روپے فی کلو جبکہ پتیاں 200 روپے فی کلو کے بھاؤ فروخت ہورہی ہیں، گزشتہ روز سے ابھی یعنی عصر کی اذان تک سیکڑوں من مال فروخت ہوچکا۔

شعیب نامی بیوپاری کا کہنا تھا کہ ویسے تو سارا سال ہی یہ کاروبار چلتا رہتا ہے مگر آج یعنی شب برأت کے روز ہمارے پاس مال کی قلت ضرور ہوتی ہے، چاہیے ہزاروں کلو مال منگوا کر ہی کیوں نہ رکھ لیں۔

عرفان نامی پھول فروش کا کہنا تھا کہ ‘کراچی کے مختلف علاقوں میں پھولوں کے اسٹال لگانے والے افراد یہاں سے مال خرید کر لے جاتے ہیں، یہ سلسلہ آج رات تک جاری رہے گا‘۔

مارکیٹ میں گھومنے والے ایک خریدار پر نظر پڑی جن سے جب پھولوں اور پتیوں کے بھاؤ کے حوالے سے دریافت کیا تو انہوں نے مختصر جواب دیا کہ ’اپنوں سے ملاقات کے لیے بھی کم از کم ڈھائی سو روپے جیب میں ہونے لازم ہیں مگر مہنگائی کے دور میں بھی خواہ حالات کیسے ہی ہوں، ہمیں انہیں خریدنا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ ہم اگر اپنے پیاروں کے لیے کچھ نہ کریں تو پھر فائدہ کیا ہے؟‘۔

یہ بھی پڑھیں: شب برأت پر بنائیں سوجی اور چنے کی دال کا حلوہ

نیو کراچی سے آئے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ میں پھول فروخت کرنے کے لیے نہیں بلکہ تقسیم کرنے کے لیے خریدتا ہوں، اپنے رشتے داروں کی قبروں پر جانے کے لیے کچھ پھول اور پتیاں الگ کر کے باقی محلے داروں میں تقسیم کردوں گا یا پھر جن قبروں پر پھول نہیں ہوں گے وہاں ڈال دوں گا۔

واضح رہے کہ ماہ شعبان کی پندرھویں رات کو عام طور پر شب برأت یعنی بری ہونے کی رات کہا جاتا ہے، اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور خدائے رب ذوالجلال کی بارگاہ میں بیٹھ کر جہنم سے نجات مانگتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں