spot_img

تازہ ترین

کراچی میں موسلا دھار بارش کا کوئی امکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا ہے کہ کراچی...

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

یہ آسیب کا سایہ ہے یا کچھ اور؟ حقیقت بے نقاب

ہمارے معاشرے میں اکثر کچھ لوگ عجیب و غریب قسم کی بیماری یا کیفیات کا شکار ہوتے ہیں جن کے بارے میں مشہور ہوتا ہے کہ ان پر کسی آسیب کا سایہ ہے جبکہ درحقیقت وہ محض بیماری کی علامات ہوتی ہیں۔

کچھ ایسا ہی مرگی کے مریضوں کے ساتھ بھی ہوتا ویسے تو ایپی لپسی یا مرگی ایک ایسی دماغی کیفیت کا نام ہے جس میں دماغ کے ایک خاص حصے (سیریبرل کارٹیکس) کے بہت سارے نیورونز مل کر اور بہت تیزی سے بہت سارے نیوروٹرانسمیٹر فائر کرتے ہیں۔

یہ ہمارے دماغ کا وہ حصہ ہے جو ہماری یادداشت، توجہ، زبان، سیکھنے کے عمل، ہوش و حواس میں رہنے کی کیفیت اور حواس خمسہ کے ذریعے حاصل ہونے والی انفارمیشن کو پراسس کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری ارادی حرکات کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔

 خواتین

اسی وجہ سے جب دماغ کے اس حصّے میں معمول سے بہت زیادہ سرگرمی ہوتی ہے تو تقریباً یہ سارے افعال متاثر ہوتے ہیں۔

اسی کیفیت کو عرف عام میں مرگی کا دورہ پڑنا کہتے ہیں، جسے بعض اوقات لوگ علم نہ ہونے کی وجہ سے اسے جنات یا آسیب کا سایہ بھی کہہ دیتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 5 کروڑ کے لگ بھگ انسان اس دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ اس مرض کے حوالے سے بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلانے کے لیے پوری دنیا میں ہر سال فروری کے دوسرے پیر کو مرگی کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔

پاکستان میں کم و بیش 24 لاکھ لوگوں کو مرگی کا مرض لاحق ہے، اس مرض کی بدقسمتی سمجھیں یا ہمارے معاشرے کی کم علمی کہ تاحال اس دماغی عارضے کو بیماری کے علاوہ بہت کچھ سمجھا جاتا ہے۔

نیز اس مرض کو مرض ہی نہیں مانا جاتا۔ اکثر اسے جن، بھوت، جادو، ٹونہ یا آسیب کی توہمات کی نذر کردیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرگی ایک مکمل طور پر قابلِ علاج دماغی مرض ہے۔

 مرگی کی وجوہات اور اس کا علاج :

مرگی کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، مثلاً دماغی چوٹ، فالج کا اثر، دماغ میں ٹیومر کا ہونا، انفیکشن، یا کوئی پیدائشی نقص۔ ان میں سے کوئی بھی وجہ ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ مرگی کے مریضوں سے نفرت یا ان کو سماجی زندگی سے الگ تھلگ کرنے سے گریز کیا جائے۔

دراصل ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں بھی عام بیماریوں کی طرح ہوتی ہیں اور کوئی بھی شخص کسی بھی وقت ان کا شکار ہوسکتا ہے۔

Comments

- Advertisement -