یومِ شہادتِ خلیفہ سوئم، ذوالنورین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ -
The news is by your side.

Advertisement

یومِ شہادتِ خلیفہ سوئم، ذوالنورین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ

خلیفہ راشد سوئم، کامل حیا و ایمان حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام عثمان کنیت ابوعبداللہ اورابوعمراور لقب ذوالنورین تھا، آپ کے والد کا نام عفان بن ابی العاص تھا۔ آپکا تعلق شہرمکہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تھا،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کاشمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے، آپ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپ کا شمارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے۔ اُمت مسلمہ میں کامل الحیاء والایمان کے الفاظ آپ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں ۔

حضور اکرم ﷺ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ

میں اس سے کس طرح شرم نہ کروں ، جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں‘۔

حضرت عثمان نے ابتدائی زمانہ اسلام میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا، آپ نے اسلام کی راہ میں بڑے شدائد برداشت کیے ،مگردامے ،درمے اورسخنے اسلام کے لیے سرگرم رہے، قبول اسلام کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ کا نکاح حضور اکرمﷺ کی صاحبزادی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمہ سے ہوگیا، بعدازاں آپ کو ہجرت حبشہ کاشرف بھی حاصل ہوا اور راہ اسلام میں آپ اپنا آبائی وطن ترک کرکے حبشہ چلے گئے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دونوں(یعنی میاں بیوی) لوط علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے شخص ہیں جنھوں نے اللہ کی طرف ہجرت کی ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ بھی مدینہ چلے آئے،جہاں آپ نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے گرانقدر کارنامے انجام دیے۔غزوہ بدر کے دوران ہی جب حضرت رقیہ کا وصال ہو گیا تو آنحضرت ﷺ نے اپنی دوسری صاحب زادی حضرت اُم کلثوم رضی اللہ تعالیٰ  کا نکاح بھی حضرت عثمان سے کر دیا جس کہ بعد آپ کا لقب ذوالنورین یعنی دو نوروں والا ہو گیا۔

نو ہجری میں جب حضرت ام کلثوم کا بھی وصال ہوگیا اس موقع ابن اثیر نے حضرت علی سے روایت کی نقل ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

’اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں انہیں یکے بعد دیگرے عثمان سے بیاہ دیتا‘۔

مدینہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی۔شہر مدینہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا حضرت عثمان نے ۳۵ ہزاردرہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر نبی اکرم نے آپ کو جنت کی بشارت دی۔


حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کنواں


حضرت عثمان کا ایک لقب غنی بھی تھا اوردرحقیقت آپ اس لقب کے پوری طرح مستحق تھے، یوں تو ساری عمر آپ نے اپنا مال بڑی فیاضی سے راہ اسلام میں خرچ کیا تاہم غزوہ تبوک میں آپ کا مالی انفاق حد سے بڑھ گیا آپ نے اس موقع پر روایات کے مطابق نو سو اونٹ،ایک سوگھوڑے ،دو سو اوقیہ چاندی اور ایک ہزار دینار خدمت نبویﷺ میں پیش کیے جس پرخوش ہو کر نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آج کے بعد عثمان جو بھی کریں انہیں ضرر نہ ہوگا۔

واقعہ صلح حدیبیہ 6 کے نازک موقع پر یہ حضرت عثمانؓ ہی تھے جنہوں نے سفارت کے فرائض انجام دیے اور نبی اکرم کے نمائندے کی حیثیت سے آپ کا پیغام قریش تک پہنچایا اور اس سلسلے میں اپنی جان تک کی پروا نہ کی، اپنے زمانہ خلافت میں حضرت عثمان کا سب سے عظیم کارنامہ جمع قرآن کا انجام دیا۔

۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ کو نبی اکرم ﷺکے اس محبوب خلیفہ کو ایک عظیم سازش ، جو کہ درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اول اور سب سے عظیم سازش تھی کے بعد اس عالم میں قتل کر دیا گیا کہ جب آپ اپنے گھر میں قرآن کی تلاوت کر رہے تھےاور کئی دن کے روزے سے تھے۔

جنت البقیع میں موجود حضرت عثمان ؓ کی قبر مبارک

آپ کی شہادت کے وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور عین تلاوت قرآن کی حالت میں خلیفہ وقت اور امیرالمومنین کو شہید کر دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں