The news is by your side.

Advertisement

وزیر داخلہ کا مفتی تقی عثمانی سے رابطہ

کراچی: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے مفتی تقی عثمانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مفتی تقی عثمانی سے وزیر داخلہ شیخ رشید نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان سے مبینہ چاقو سے حملے کے متعلق پوچھا، ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ پر مبینہ حملے پر مجھے بڑی تشویش ہے، مفتی تقی عثمانی اعلی پائے کے عالم اور دین اسلام کی شان ہیں، مفتی عثمانی تقی عثمان کی زندگی کے لیے دعا گوہیں۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی دارالعلوم کورنگی سے مشتبہ شخص سے چاقو برآمد ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سے جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔

گورنر ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سندھ پولیس علمائےکرام کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔

دوسری جانب سابق وزیر داخلہ اور لیگی رہنما احسن اقبال نے بھی مفتی تقی عثمانی پر مبینہ قاتلانہ حملہ کی مذمت کی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کو چاہیےجیّد علما کی سیکیورٹی پر توجہ دے، پاکستان کےدشمن ملک میں فسادات بھڑکانےکیلئے ایسی مذموم کارروائی کراسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملے کی اطلاع، پولیس کا اہم بیان جاری

واضح رہے کہ آج ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہوئی تھیں، جس پر ایس ایس پی کورنگی شاہ جہاں خان نے میڈیا کو بتایا کہ مفتی تقی عثمانی پر حملہ نہیں ہوا، ملاقات کےلیےآئے ایک شخص سے چاقو برآمد ہوا ہے، جسے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

زیر حراست شخص کی شناخت عاصم لیئق کے نام سے ہوئی ہے، کورنگی پولیس نے ملزم کا ابتدائی بیان قلمبند کرلیا ہے، جس میں ملزم نے بتایا کہ گھریلو پریشانی کاشکار ہوں دعا کرانا چاہتا تھا،میں نے چاقو نہیں نکالا، دوران تلاشی گارڈ نےنکالا، چاقو روز مرہ کے استعمال کیلئےرکھا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں