The news is by your side.

Advertisement

شکیبؔ جلالی: وہ نام وَر جس نے صفحۂ زیست سے اپنا نام کھرچ دیا

بیسویں صدی کے نصف اوّل میں برصغیر میں شاعری کے میدان چند ایسے تخلیق کار سامنے آئے جنھوں نے غزل میں اپنے تخیّل اور خیالات و تجربات کو نہایت منفرد اور جداگانہ انداز سے ڈھالا اور جہانِ‌ سخن میں ممتاز ہوئے۔ شکیب جلالی انہی شعرا میں‌ شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے 12 نومبر 1966 کو یہ دنیا چھوڑ دی تھی۔

ان کا اصل نام سید حسن رضوی تھا اور شکیب تخلص۔ وہ یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے شہر علی گڑھ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ شکیب تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے تھے جہاں 32 برس کی عمر میں انھوں‌ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد پاک و ہند میں جن غزل گو شعرا نے اپنے منفرد لب و لہجے اور فکرِ تازہ کے ساتھ ہم عصروں سے ہٹ کر اظہار کا سلیقہ اپنایا، ان میں یہ جواں‌ مرگ شاعر بھی شامل ہے۔

اردو کے صاحبِ اسلوب شاعر شکیب جلالی نے بلاشبہ غزل کو ایک نیا لہجہ اور نیا آہنگ دیا۔ ان کا شعری مجموعہ روشنی اے روشنی 1972ء میں شائع ہوا جب کہ 2004ء میں ان کا کلیات بھی منظرِ‌ عام پر آیا۔

شکیب جلالی کی غزلوں‌ نے جہاں‌ انھیں ہم عصروں‌ میں‌ ممتاز کیا، وہیں شعروسخن کا عمدہ ذوق رکھنے والا ہر قاری ان سے متاثر نظر آیا اور ان کے اشعار زباں زدِ‌ عام ہوئے۔ اردو غزل کے حوالے سے شکیب کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا کلام ندرتِ خیال اور منفرد اسلوب کے سبب ہمیشہ تازہ رہے گا۔

شکیب جلالی کے یہ اشعار پڑھیے۔

شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی تیز چلے، سَر پھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتّہ دکھائی دیتا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں