The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں غیرقانونی عمارتوں کی تعمیرپر عدالت شدید برہم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے شہر قائد میں جاری تجاوزات کے خلاف آپریشن میں ناکامی اور غیرقانونی عمارتوں‌ کی تعمیر پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کراچی کے مختلف علاقوں میں جاری غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایس بی سی اے حکام نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

عدالت نے تجاوزات کا خاتمہ نہ کرنے پر ایس بی سی اے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لیاقت آباد، شیر شاہ، گولیمار کے علاقے تباہ کردیے گیے ہیں، بیس فٹ کی چوڑی گلیں اب دس فٹ کی باقی رہ گئیں ہیں‘۔

معزز جج نے کہا کہ ’غیرقانونی تجاوزات کے باعث مذکورہ علاقوں میں ایمبولینس بھی داخل نہیں ہوسکتی جبکہ ان علاقوں میں عوام کو پیدل چلنا بھی محال ہوچکا ہے‘۔

ایس بی سی اے افسر کو مخاطب کرتے ہوئے جج نے کہا کہ ’کیا آپ کا ادارہ سو رہا ہے؟‘۔

عدالت نے  ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن مکمل نہ ہونے پر ڈائریکٹرایس بی سی اے، ڈپٹی کمشنرضلع  وسطی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا‘۔

جج نے ایس بی سی اے حکام کو مخاطب کر کے پوچھا کہ آخر عدالتی فیصلے کے بعد بھی تجاوزات کا خاتمہ کیوں نہیں کیا گیا؟۔

لیاری کے علاقے آگرہ تاج کالونی میں غیر قانونی عمارات کی تعمیر پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے سوال کیا کہ ’تنگ گلیوں میں 9 منزلہ عمارتیں کیسے تعمیر ہورہی ہیں؟ جب عمارتیں بن رہی ہوتی ہیں تو کیا آپ لوگ سو رہے ہوتے ہیں، کروڑوں کا پورشن لینے والوں کی تلافی کون کرے گا؟۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جن شہریوں نے ان عمارتوں میں گھر خریدے اُن کو پیسے واپس کرنے کے لیے ایس بی سی اے حکام کی تنخواہیں کاٹی جانی چاہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں