The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کا سیاسی مخالفین کیخلاف کیلیے اہم پیغام

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے سیاسی مخالفین کے لیے اہم پیغام جاری کر دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے آفیشنل اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں لکھا کہ آئیں مل کر پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں جہاں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔

وزیر اعظم نے لکھا کہ ایسا ملک بنائیں جہاں تنقید کا حوصلے سے سامنا کیا جائے اور سیاست کی تعریف عوام کی خدمت ہو۔

شہباز شریف نے لکھا کہ ایک ایسا ملک بنائیں جہاں خواتین کی عزت  اور اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہوں۔

گزشتہ روز قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے رجیم تبدیلی کے لیے امریکی سازش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوری تقاضےکے ذریعے تبدیلی کویقینی بنایا گیا پہلی مرتبہ دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے یہ عوام کی فتح ہے۔

مذاکرات کی دعوت

قومی سے خطاب میں وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں اور مخالفین کو مذاکرات کی دعوت دے دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر رہا ہوں ایسی پالیسی بنارہےہیں تاکہ آئندہ کوئی بھی حکومت معیشت کوٹریک سے نہ اتار سکے عہدکرتےہیں مل کرامانت اوردیانت کیساتھ شبانہ روز محنت کریں گے میں اور میری کابینہ ہر فیصلے سے آپ کی عدالت میں حاضرہوں گے سیاسی مخالفین کیلئے پیغام ہےآئیں پاکستان کو ایسا ملک بنا دیں جس میں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھاجائے آئین پاکستان کو ایسا ملک بنا دیں جہاں تنقیدکودشمنی نہ سمجھاجائے۔

ریلیف پیکیج

شہباز شریف نے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 28 ارب روپے سے نئے ریلیف پیکج کا آغاز کر رہے ہیں فوری طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ غریب خاندانوں کو 2 ہزار روپے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت دیے جا رہے ہیں یہ گھرانے ساڑھے 8 کروڑ آبادی پر مشتمل ہیں، یہ امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مالی امداد کے علاوہ ہے، آئندہ مالی سال کے لیے اس ریلیف پیکج کو بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔

امریکی سازش

شہبازشریف نے واضح کیا کہ اقتدار کیلئے نام نہاد سفارتی خط کی سازش تک گھڑی گئی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایک نہیں دومرتبہ کہاکوئی سازش نہیں ہوئی امریکامیں ہمارےسفیرنےبھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کر دیا اس کے باوجودایک شخص مسلسل جھوٹ بول رہاہے افسوسناک بات ہے یہ شخص اپنے سیاسی مفاد کیلئے قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

آئی ایم ایف

انہوں نے دوٹوک کہا کہ عوام کی جان ومال کاتحفظ یقینی بنانا حکومت کا فرض ہے اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے سابق حکومت جن حقائق پرجان بوجھ کرپردہ ڈال رہی ہے وہ آج یاد دلانا چاہتا ہوں آئی ایم ایف سےمعاہدہ آپ نے کیا ہم نےنہیں آئی ایم ایف کی سخت شرائط آپ نےمانی ہم نے نہیں، عوام کومہنگائی کی چکی میں آپ نےڈالا ہم نے نہیں ملک کو تاریخی قرض کے نیچے ڈالا اور عالمی اداروں نے کہا سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دور میں ہوئی۔

قرضے، مہنگائی

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ضد اور گھمنڈ آئینی اداروں سے بڑا ہے تو یہ اس کی بھول ہے ہم نےحکومت سنبھالی تومہنگائی عروج پرتھی کاروبار،روزگار،معاشی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی تھیں ایک طرف مہنگائی کی آگ لگائی گئی دوسری طرف پاکستان پرقرض بڑھایا گیا گزشتہ 4 سال میں پاکستان پر قرض کے بوجھ میں 20ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا گزشتہ4سال میں لیا گیا قرض مجموعی قرض کے80 فیصد ہے بجٹ خسارہ تاریخ کا بلندترین چھوڑا گیا صرف اسی سال اتناخسارہ کیاگیاجس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

لوڈشیڈنگ

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ حکومت نےمجرمانہ غفلت کرتےہوئےایندھن کا بندوبست کیانہ پلانٹس مرمت کرائے گزشتہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سےعوام کو لوڈشیڈنگ کاعذاب سہناپڑا ہم نے دل پر پتھر رکھ کر گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تیل پیدا کرنے والے ممالک سے لے کر ترقی یافتہ ممالک اس شدید معاشی صورتحال سے دوچار ہیں گزشتہ حکومت نے اپنے سیاسی فائدےکیلئے پیٹرولیم پر سبسڈی کا اعلان کیا ہم نے اپنے سیاسی مفادکوقومی مفاد پر قربان کرنا قومی فرض جانا ہے ہمارا فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانا ناگزیر تھا معاشی بحران میں پاکستان کو سابقہ حکومت نے پھنسایا ہے۔

حکومت کڑا امتحان

وزیراعظم نے خطاب کے آغاز میں کہا کہ چند ہفتے قبل جس ذمہ داری کیلئے منتخب کیا گیا یہ میرے لیے اعزاز ہے ایسے مرحلے پر وزیراعظم کا منصب سنبھالنےکسی کڑےامتحان سےکم نہیں، ملک کو گزشتہ 4 سال کےسنگین اقدامات سے بچانا ناگزیر ہو گیا ہے اتحادی جماعتوں اور نوازشریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں شکرگزار ہوں کہ مجھ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

دروازے کھلے، پھلانگے نہیں گئے

وزیراعظم نے کہا کہ عوام نے مطالبہ کیا کہ نااہل اور کرپٹ حکومت سےجان چھڑائی جائے تمام اپوزیشن جماعتوں نے لبیک کہا اور جمہوری تقاضےکے ذریعے تبدیلی کویقینی بنایاگیا پہلی مرتبہ دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے یہ عوام کی فتح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نےحکومت سنبھالی توہرشعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا ایسی تباہی میں نے کبھی نہیں دیکھی جو سابق حکومت پونے 4 سال میں چھوڑ گئی یہ ہی وجہ ہےکہ ہم نےپاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا ہمارے سامنے واضح تھاملک کو تباہی سے بچانے کیلئے محنت درکار ہو گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں