site
stats
پاکستان

مجھے سپریم کورٹ اور اپنی عوام پراعتماد ہے،شیخ رشید

اسلام آباد : عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہناہےکہ پاناما لیکس پر مجھے سپریم کورٹ پر اعتماد ہے اور میں عدالت سے استدعا کروں گا کہ روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت ہو۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتےہوئے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سےدرخواست کروں گا کہ کیس کوروزانہ کی بنیاد پر لگایا جائے انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے بجائے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلہ کا احترام کریں گے۔

خیال رہے کہ اب سےکچھ دیر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالہ پہنچے تھے اور وہاں عمران خان سے طویل مشاورت ہوئی اور انہوں نے پانامالیکس پر اپنے فیصلے سے بھی تحریک انصاف کے سربراہ کو آگاہ کیا۔

اس سے قبل بنی گالہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ نے1 بجے تک کا وقت دیا ہے کہ آپ فیصلہ کرلیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ اس عدالت کا فیصلہ یاجوڈیشل کمیشن کا فیصلہ تسلیم کریں گے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہناتھا کہ پانامالیکس میں جوڈیشل کمیشن کی تجویز مسترد کرتے ہیں اور کیس میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کا احترام کریں گے۔

شیخ رشید کا کہناتھا کہ کل کا دھرنا ہرصورت ہوگا اور جو کل دھرنے کے لیے نہیں نکلے گا وہ نوازشریف کے ساتھ ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شیخ رشید کو ٹیلیفون کرکے مشاورت کے لیے بنی گالہ بلایا تھا۔

یاد رہے آج صبح سپریم کورٹ میں پانامالیکس کیس میں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے شیخ رشید کا کہناتھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو28 اکتوبر کو ہر حال میں لال حویلی آنا چاہیے تھا۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہناتھا کہ تمام راستے بند تھے لیکن لفٹ لے کر سپریم کورٹ پہنچاہوں۔

مزید پڑھیں:نوازشریف کو ملک کی نہیں کرپشن سے بنائے ہوئے پیسے کی فکر ہے،عمران خان

واضح رہے کہ آج صبح پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہناتھا کہ نوازشریف پاکستان کے لیے سیکورٹی رسک ہے اسے ملک کی نہیں اپنے پیسے کی فکر ہے۔

شیخ رشید کے حوالے سے عمران خان سے پوچھا گیا کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہناتھا کہ آپ کو باہر نکلنا چاہیے تو اس پر انہوں نے کہا تھا کہ کپتان اپنی حکمت عملی کے تحت چلتا ہے اور میری حکمت عملی 2 نومبر کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top