site
stats
حیرت انگیز

‘خلائی مخلوق کا انسانوں سے 25 سال میں رابطہ ہوجائے گا’

میڈرڈ: ماہرینِ فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ  آئندہ 25 سالوں میں خلائی مخلوق انسانوں سے رابطہ کریں گے اور دونوں ایک دوسرے کی بات کو سُن بھی سکیں گے۔

اسپین میں ہونے والے سونر فیسٹول میں سائنسدانوں نےاس امید کے ساتھ زمین سے 12 نوری سال کے برابر کہکشاں کے ہجوم (جی جے 273) پر ایک پیغام بھیجا کہ اگر وہاں کوئی دوسری مخلوق موجود ہے تو وہ ضرور اس کا جواب دے گی۔

جن دوسیاروں پر یہ پیغام بھیجا گیا اُن میں سے ایک پر نہایت گرمی جبکہ دوسرے پر سخت سردی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان دونوں سیاروں پر کوئی آباد ہے کیونکہ موسمِ گرما اور موسمِ سرما زندگی گزارنے کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا ہماری دنیا خلائی مخلوق کا بنایا ہوا کمپیوٹر پروگرام ہے؟

سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ جس سیارے پر پیغام بھیجا گیا وہ زمین سے 12 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اس لیے پیغام کو وہاں پہنچنے میں اتنا ہی عرصہ درکار ہوگا۔

نظریاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیارے پر کوئی دوسرے شہہ موجود ہوئی تو وہ پیغام کا جواب ضرور ارسال کرے گی اور ہم تقریبا 12 سال تک اس کا انتظار بھی کریں گے۔

فیسٹیول کے ڈائریکٹر رچرڈ روبلیس کا کہنا ہے کہ ’سونر (جی جے 273 بی) کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انسان اور خلائی مخلوق کے مابین رابطہ بحال ہوجائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: خلائی مخلوق نے ترکی پر حملہ کردیا؟

اُن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اٹھنے والا سوال ہے کہ انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ’وہ اس کائنات میں اکیلے ہی زندگی گزار رہے ہیں‘۔

فیسٹیول ڈائریکٹر کے مطابق زمین پر بسنے والے انسانوں کے دماغوں میں پیدا ہونے والے منفی رجحانات کو ختم کرنے کے لیے یہ اقدام اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈوگلس واکوچ جو اس پیغام رسانی کی سربراہی کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ’میرے لیے اس پروجیکٹ کی بڑی کامیابی اُس وقت ہوگی جب 25 سال بعد اس پیغام کا جواب زمین پر بسنے والے انسانوں کو موصول ہوجائے گا‘۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم کو اس معاملے میں پیشرفت حاصل ہوگئی تو اس کا شمار حقیقی کامیابیوں میں ہوگا‘۔

واضح رہے کہ معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ خلائی مخلوق اور انسانوں کے مابین پیغام رسانی کا تجربہ بہت تلخ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہو دسرے سیارے پر ہم سے زیادہ ذہین لوگ بستے ہوں۔

اسے بھی پڑھیں: خلائی مخلوق سے زمین کی حفاظت، ناسا 9سالہ بچے کا سہارا لینے پر مجبور

اُن کا کہنا ہے کہ ’انسانوں سے رابطے کے نتیجے میں اگر خلائی مخلوق انسانوں سے زیادہ ذہین ثابت ہوئے تو یہ ہمارے لیے بہت بری خبر ہوگی اس لیے میرا مشورہ ہے کہ دوسری دنیا کے معاملات میں دخل اندازی کے تجربے کو فوری بند کردیا جائے‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top