The news is by your side.

Advertisement

چڑیا کے پیٹ میں پاؤ بھر وزنی موتی تھا!

یہ سبق آموز کہانی یا حکایت قدیم دور کی ہے۔
یہ تو نہیں‌ کہا جاسکتا کہ یہ کس دور کی کہانی ہے اور یہ کس خطے کے باشندے کی اختراع ہے، مگر ہمارے ہاں‌ یہ حکایاتِ رومی کا حصہ ہے۔ اس بات سے قطع نظر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ایسے قصے اور کہانیاں‌ ہر سماج میں‌ اخلاقی تربیت اور کردار سازی میں‌ اہمیت رکھتے ہیں۔ آئیے، چڑیا اور ایک شکاری کی یہ کہانی پڑھتے ہیں۔

کہتے ہیں‌ کسی شخص نے چڑیا پکڑنے کے لیے جال بچھایا۔ اتفاق سے ایک چڑیا اس میں پھنس گئی۔

چڑیا نے شکاری سے کہا، اے انسان! تم نے کئی ہرن، بکرے اور مرغ وغیرہ کھائے ہیں، ان کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے، ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے، اس سے تمہارا کیا بنے گا؟ پیٹ بھی نہیں بھرے گا، لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں تین ایسی باتیں‌ بتاسکتی ہوں‌ جن پر عمل کرنے سے تم کو بہت فائدہ ہو گا۔

شکاری کے دل میں‌ تجسس پیدا ہوا اور وہ اس کی بات سننے بیٹھ گیا۔ یہ دیکھ کر چڑیا بولی۔

دیکھو، ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی، مگر دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی۔ اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھوں گی۔

اس شخص نے چڑیا کی بات مان لی اور بولا، تم مجھے پہلی نصیحت کرو، تاکہ میں تم کو جال سے نکال کر چھوڑ دوں۔
چڑیا نے کہا، پہلی نصیحت یہ ہے کہ جو بات ممکن نظر نہ آتی ہو، اس کا یقین بھی مت کرو۔

یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا۔ چڑیا سامنے دیوار پر جا بیٹھی اور بولی۔ میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ جو بھی عمل کر گزرو، یا فعل انجام دے دو اس کا کبھی غم نہ کرنا۔

پھر پھدکتے ہوئے اس چڑیا نے کہا۔ اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی، میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ہے، اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو مالا مال ہو جاتے، تم نے اپنے ہاتھوں‌ دولت گنوائی ہے۔

اس شخص نے یہ سنا تو افسوس کرنے لگا۔ ملال اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا۔ چڑیا نے اسے یوں‌ پچھتاتا دیکھا تو درخت کی شاخ‌ پر بیٹھے بیٹھے بولی۔ میں نے ابھی تم کو نصیحت کی تھی کہ جو بات ممکن نہ ہو، اس کا یقین بھی نہ کرنا، لیکن تم میری اس بات کا اعتبار کرکے پچھتانے بیٹھ گئے کہ اس پدی سی چڑیا کے پیٹ میں پاؤ بھر وزنی موتی ہو گا، کیا یہ ممکن ہے؟

میں نے دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ جو بات ہو جائے اس کا غم نہ کرنا، مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ چڑیا کو کیوں‌ چھوڑا۔

اے انسان، تجھے کوئی بھی نصیحت کرنا بے سود ہے۔ تُو نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرے گا، سچ ہے تُو اچھی بات کے لائق نہیں۔ یہ کہہ کر چڑیا وہاں‌ سے پرواز کر گئی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں