The news is by your side.

Advertisement

ہوا میں معلق پتھروں کا معمہ حل ہوگیا

سائبیریا کے علاقے میں بعض منجمد جھیلوں پر خاص انداز میں متوازن رہنے والے پتھروں نے سائنسدانوں کو ایک عرصے سے پریشان کر رکھا تھا، ان پتھروں کے نیچے پانی نوکدار شکل اختیار کر کے پتھر کو بلند کردیتا ہے۔

انہیں دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ شاید یہ کسی فنکار کی کارستانی ہے تاہم یہ سو فیصد قدرتی عمل ہے جسے ایک عرصے تک سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ انہیں زین اسٹون کا نام دیا گیا ہے۔

فرانس میں واقع فرنچ نیشنل سینٹر فار سائنٹفک ریسرچ کے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں عین اسی طرح پتھر کو ایستادہ کیا ہے۔

فزکس کی رو سے اس عمل میں جھیل میں رکھا پتھر کسی چھتری کی طرح کام کرتا ہے اور نیچے سورج کی تمازت سے اس کا کچھ حصہ پگھل جاتا ہے۔ اس طرح برف کا ایک پتلا سا مینار یا ابھار بن جاتا ہے جس پر گول ہموار پتھر توازن میں ٹکا رہتا ہے۔

دوسری جانب جہاں پتھر ہوتا ہے عین اس کے نیچے کا منجمد پانی نشیبی گڑھے کی شکل میں جم جاتا ہے اور یہ بھی ایک معمہ تھا، ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ گرم پتھر سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ بلیک باڈی ریڈی ایشن اطراف میں پڑتی ہے تو وہ برف کو پگھلا کر ایک گڑھا بناتی ہے۔

زین اسٹون ایک عرصے تک پوری دنیا کے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں جن میں گول پتھر باریک برفیلے ابھاروں پر کھڑے رہتے ہیں۔ اس میں ٹھوس سے گیس بننے کے عمل کی شرح مختلف ہوتی ہے اور اسی وجہ سے برف ایک خاص انداز میں تشکیل پاتی ہے۔

اسی عمل کو سمجھ کر برفانی خطوں میں جاری کئی عوامل کو سمجھا جاسکتا ہے، ان میں وہ گلیشیئر بھی شامل ہیں جو کوڑا کرکٹ سے ڈھکے ہوئے ہیں اور عالمی خطرہ بن چکے ہیں۔

ان پتھروں کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ ہوا کی رگڑ سے پتھر اور برف کی تشکیل ہوئی ہے لیکن اب فرانس کے ماہرین نے اس تاثر کو زائل کرتے ہوئے اس کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں