The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں جنگِ آزادی کے متوالے جنھیں‌ انگریزوں‌ نے باغی قرار دیا تھا

1857ء میں برصغیر پر انگریز سامراج کے قبضے اور برطانوی راج کے خلاف جو مسلح کارروائیاں شروع ہوئی تھیں، وہ چند مسلح جھڑپوں کے بعد کئی شہروں میں‌ خوں ریز تصادم کا سبب بنیں اور حالات نے بدترین رُخ اختیار کرلیا۔

ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی میں سندھ نے بھی بڑا کردار ادا کیا اور یہاں لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

1843ء میں سندھ پر انگریز قابض ہوچکا تھا۔ کراچی سے جیکب آباد تک مختلف شہروں میں سندھ کے تالپور خاندان اور دیگر قبائلی سرداروں کی مزاحمت اپنی سرزمین کو اس قبضے سے نہیں‌ بچا سکی تھی۔

مشہور ہے کہ ہندوستان کے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نے سندھ کے حکم راں میر شیر محمد تالپور کو انگریزوں‌ کے خلاف مدد کرنے کے لیے خط بھی لکھا تھا، لیکن انگریزوں کو اس کی خبر ہو گئی اور یوں اس پر عمل نہیں‌ ہوسکا۔

مؤرخین کے مطابق سندھ میں جنگِ آزادی کا آغاز 1857ء کے ماہِ ستمبر میں ہوا تھا جب کراچی کی بندرگاہ پر ایشیا نامی جہاز لنگر انداز ہوا۔ باغیوں نے اس جہاز پر حملہ کیا جو ناکام رہا، لیکن اسی واقعے کے بعد سندھ بھر میں غم و غصّہ اور نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔

برطانوی افسروں اور ان کے اہلِ خانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا جب کہ رہائشی علاقوں کا محاصرہ، باغیوں کو جان سے مار دینے اور ان سے اسلحہ تحویل میں لینے کی کارروائیاں‌ تیز کردی گئیں۔ باغیوں کو پھانسی دینے اور مزاحمت پر قتل کرنے کے علاوہ سندھ میں بغاوت کا سر کچلنے کے لیے جنگجوؤں کو توپ دَم کردیا گیا۔

ایک باغی صوبے دار رامے پانڈے اور ان کے ساتھیوں کو توپ کے دہانے پر باندھ کر اڑا دیا گیا تھا۔ کئی افراد کو بغاوت کے مقدمے میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس کے علاوہ بغاوت اور سرکار کے خلاف کارروائیوں میں کسی بھی طرح مدد دینے والے کئی لوگوں کو گولی مار دی گئی۔

سندھ دھرتی کے ہوش محمد شیدی، رام دین پانڈے، روپلو کولہی، پیر صبغت اللہ شاہ اور کئی نام ایسے ہیں جنھوں‌ نے آخری دَم تک آزادی کی جنگ لڑی۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں اس وقت جو بھی تحریکیں چلائی گئیں، ان کا اثر سندھ میں کراچی، حیدر آباد اور سکھر جیسے شہروں پر پڑتا تھا۔ اسی طرح جب 1857ء کی جنگِ آزادی شروع ہوئی تو صوبے کے بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، شکار پور، جیکب آباد میں‌ بھی باغیوں نے انگریزوں‌ کے خلاف کارروائیاں‌ شروع کردیں اور جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں