امریکا کی کورنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے گذشتہ سال انسانی احساسات کو پڑھنے والے کیمرے کا اعلان کیا تھا، اب اس میں مزید جدت لے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے انسانی احساسات کو پڑھنے والے کیمرے کو ہار کی شکل دے دی ہے،ا سے سی فیس کا نام دیا گیا جس کے معنی ہیں "چہرے کو دیکھنے والا”، یہ کیمرا اپنے جدید سافٹ ویئر کی باعث پورے دن آپ کے احساسات پڑھتا رہتا ہے۔
تجرباتی طورپر اسے تیرہ افراد پرآزمایا گیا اورچلنے پھرنے کے دوران ان سے مختلف تاثرات کے لیے کہا گیا، ان میں لوگ اپنا سربھی ہلارہے تھے اور گلے میں پڑے سسٹم کو ادھر ادھر بھی گھماتے رہے۔ پھر اس کا موازنہ آئی فون ایکس کے ٹروڈیپتھ تھری ڈی کیمرے سے کیا گیا تو اس کی زبردست افادیت سامنے آئی۔
اس میں ایک ہیڈفون نما ساخت کے کونے پر دو کیمرے لگے ہیں جو کانوں پاس موجود ہوتے ہیں، یہ کیمرے گالوں گردن اور اس کی حرکات کو دیکھتے ہوئے چہرے کے بیالیس تاثرات کو دیکھتے رہتے ہیں،یہی نہیں اس ہار سے آنکھ، ہونٹ، بھنویں اور چہرے کے تفصیلات بھی پوشیدہ نہیں رہتی، تقریبا اٹھاسی فیصد درستگی سے یہ چہرے کے تاثرات جان سکتا ہے اور ان کا اظہار آٹھ اہم ایموجی کے ذریعے کرتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ایک جانب تو مریضوں کی تفصیلات معلوم کی جاسکتا ہے تو دوسری جانب ورچول ریئلٹی، آن لائن کانفرنس اور دیگر کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے طبی استعمال کا امکان بہت روشن ہے کیونکہ ڈاکٹر مریض سے دور رہ کر بھی اس کے جذبات کو پڑھ سکتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



