The news is by your side.

Advertisement

سانپ کا زہر، سائنس دانوں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی

امسٹرڈم: یورپی ملک نیدرلینڈز کے سائنس دان پہلی بار لیبارٹری میں سانپ کا زہر(تریاق) بنانے میں کامیاب ہوگئے، اس تریاق سے قیمتی جانیں بچائی جاسکیں گی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سانپ کے کاٹے کا علاج عمومی طور پر ایک مشکل طلب مرحلہ ہوتا ہے، سانپ کو پہلے ہاتھوں سے پکڑ کر زہر کو کسی برتن میں جمع کیا جاتا ہے، اس کے بعد زہر کی خاص مقدار جانوروں کو دی جاتی ہے اور پھر جانوروں سے حاصل شدہ خون سے اینٹی باڈیز الگ کرلی جاتی ہیں۔

یہ اینٹی باڈیز تریاق کے طور پر سانپ کے زہر کے خلاف کام کرتی ہیں۔ لیکن اب ماہرین لیبارٹری میں ہی سانپ کا زہر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے جو مذکورہ مشکل طلب مرحلے سے بچاکر سانپ کے کاٹے کا علاج کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق تریاق تیار کرنے کا مرحلہ بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہوتا ہے تاہم لیبارٹی کا تیار کردہ زہر ان خطرات سے بھی محفوظ رکھے گا۔ نیدرلینڈز کے سائنس دانوں نے مختلف اقسام کے سانپوں کے زہر تیار کرنے والے غدود لیبارٹری میں اسٹیم سیلز کی مدد سے تیار کیے۔

حقیقی سانپ جیسا زہر بنانے کے لیے محققین نے سانپ کے انڈے حاصل کیے اور ان کے ٹشوز کا ننھا ٹکڑا لیا، جس میں اسٹیم سیلز موجود تھے اور اس کو کم درجہ حرارت سے اسی عمل سے گزارا گیا، جس سے انسانی اعضا تیار کیے جاتے تھے، تاکہ زہریلے غدود تیار ہوسکیں، اس طرح ماہرین اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں سانپ کا زہر گھوڑوں میں منتقل کرکے بھی تریاق تیار کیے جاتے ہیں، ان میں مضر اثرات کی شرح زیادہ ہے، جیسے خارش اور کھجلی یا دیگر سنگین اثرات ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں کوبرا کے جینول کا سیکونس تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جو ہر سال صرف بھارت میں ہی 50 ہزار افراد کو ڈستا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں