The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: مانچسٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے فوج طلب

لندن : برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے جنگلات میں 4 روز قبل ہونے والی آتشزدگی نے ہزاروں ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، حکام نے آگ پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بعد برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے پہاڑی علاقے مورلینڈ کے جنگلات میں بھی شدید آتشزدگی کے باعث ہزاروں ایکڑ رقبہ اور 24 مکانات جل خاکستر ہوچکے ہیں، جبکہ 4 روز میں 150 سے زائد افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مانچسٹر کے حکام نے 4 روز قبل بھڑکنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے شاہی فضائیہ کے دستوں اور اسکاٹ لینڈ کی رائل رجمنٹ کی 4 بٹالین کے 100 فوجیوں کو طلب کرلیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مانچسڑ کا آگ بجھانے والا عملہ دن رات شعلوں پر قابو پانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، جبکہ چینوک ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ پر پانی بھی ڈالا جارہا ہے، لیکن آگ کی شدت میں تاحال کوئی کمی واقع نہیں ہورہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 60 فائر فائٹرز گذشتہ چار روز سے مور لینڈ کے چھ الگ الگ مقامات پر لگنے والی آگ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم جنگلات میں لگنے والی آگ 7 کلومیٹر کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

رائل ائر فورس کے ونگ کمانڈر ٹونی لین کا کہنا ہے کہ ’ہم پوری کوشش کریں گے کہ فوجی، فائر فائٹرز، ہنگامی خدمات انجام دینے والا عملہ مشترکہ طور پر کام کریں‘۔

ٹونی لین کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہماری تین سے چار فوجیوں کی ٹیم میں ایک فائر فائٹر ہونا چاہیئے تاکہ آگ پر قابو پانے والے عملے کی مدد کے لیے زیادہ افرادی قوت فراہم کیا جاسکے‘۔

یاد رہے کہ مانچسٹر کے علاقے مور لینڈ کے جنگلات میں اتوار کے روز آگ بھڑکی تھی، جس کے بعد وہ 7 کلومیٹر کے رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ جس پر قابو پانے کے لیے اب تک پینسٹھ ہزار گیلن سے زائد پانی استعمال کیا جاچکا ہے، حکام نے مانچسٹر میں جنگلاتی آگ کو بڑا واقعہ قرار دے دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شمالی جنگلات میں لگی آگ تاحال بے قابو ہے، بھڑکتے شعلوں نے 13 ہزار ایکڑ رقبے کو جلا کر راکھ کر ڈالا ہے ، ہزاروں افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 27 سو فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن خشک موسم اور تیز ہوائیں شعلوں کو تیزی سے پھیلا رہی ہیں۔ جس سے فائر فائٹرز کو شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں