The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے ماخذ کے حوالے سے نیا انکشاف

نیویارک: ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کروناو ائرس کے ماخذ کا جائزہ شاید فیصلہ کن نہ ہو۔

تفصیلات کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے ماخذ کے جائزے سے شاید کوئی واضح فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

کرونا وبا پوری دنیا میں پھیلنے کے بعد سے مستقل طور پر یہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے پھیلا، اور اس کا ماخذ کیا تھا، اس حوالے سے رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے بھی اس بات کا جائزہ لینے کے لیے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو متحرک کیا تھا، کہ آیا کرونا وائرس متاثرہ جانور سے آیا تھا یا وائرولوجی لیب سے خارج کیا گیا تھا۔

امریکا میں اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بائیڈن اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ 90 دن کے جائزے کے بعد بھی شاید ہمارے پاس قطعی جواب نہ ہو، تاہم امریکی صدر ایک مرکوز ، جامع اور وقت پر مبنی کوشش کرنا چا ہتے ہیں۔

کرونا وائرس کا پہلا کیس کب سامنے آیا تھا؟

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کو جولائی کے وسط میں تازہ ترین اطلاع موصول ہونے کی امید ہے، جس میں گزشتہ 45 دنوں کے دوران کی گئی تحقیقات کی پیش رفت کے نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سائنس دانوں نے سائنسی طریقوں کی مدد سے کو وِڈ 19 کے پہلے کیس کے دورانیے کا تخمینہ لگایا ہے، اس تخمینے کے مطابق دنیا میں کو وِڈ نائنٹین کا پہلا کیس چین میں اوائل اکتوبر سے نومبر 2019 کے وسط میں سامنے آیا ہوگا، اور دنیا میں پہلا فرد ممکنہ طور پر 17 نومبر 2019 کو وائرس سے متاثر ہوا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں