اسٹیٹ بینک کی ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق ایف آئی اے رپورٹس کی تردید -
The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک کی ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق ایف آئی اے رپورٹس کی تردید

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے ڈیٹا کی چوری سے متعلق ایف آئی اے رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ڈیٹا چوری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

تفصیلات کے مطابق بینک کارڈز کی ہیکنگ کے حوالے سے ایف آئی اے کے دعوے پر اسٹیٹ بینک کی وضاحت آ گئی، کہا کارڈز ڈیٹا چوری ہونے کا ایف آئی اے کا دعویٰ غلط ہے۔

بینکوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے، نہ ہی کسی بینک کی جانب سے کوئی شکایت موصول ہوئی۔

اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر 2018 کو ایک بینک کے سیکورٹی حصار کے توڑے جانے کا وقعہ پیش آیا تھا، اس کے بعد ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نہ تو بینکوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے کوئی شواہد ملے ہیں، نہ ہی کسی بینک کی جانب سے ایسی کوئی شکایت موصول ہوئی۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکوں کا ٹرانزیکشن نظام مضبوط بنانے کے لیے پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، اسٹیٹ بینک واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی سائبر حملے کے خدشے کی صورت میں بینک اس کا پیشگی تدارک کریں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکس اپنے خود کار سیکورٹی سسٹم سے مطمئن ہیں، پیشگی احتیاط کے سبب چند بینکوں نے بین الاقوامی لین دین مکمل طور پر بند کر رکھا ہے، جب کہ اسٹیٹ بینک معاملے کی خود نگرانی کر رہا ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  اے ٹی ایم استعمال کرنے والے ہوشیار، انیس ہزار سے زائد افراد کا بینک ڈیٹا چوری


خیال رہے کہ سائبر سیکورٹی کمپنی کی رپورٹ کے مطابق سائبر کرمنلز نے پاکستانی بینکوں کو نشانے پر رکھ لیا ہے، کئی ہزار ہیک شدہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کی ڈارک ویب پر فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔

کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ڈارک ویب پر 100 سے 160 ڈالرز میں بیچا گیا، 22 پاکستانی بینکوں کے مجموعی طور پر 19864 کارڈز کا ڈیٹا چوری ہوا، پاکستانی اے ٹی ایم استعمال کرنے والے غیر ملکیوں کا ڈیٹا بھی چرایا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں