The news is by your side.

Advertisement

اورئیل کالج کے گورنرز نے سیسل رہوڈز کا مجسمہ ہٹانے کے حق میں ووٹ دے دیا

آکسفورڈ (مرزا آفتاب بیگ) آکسفورڈ یونیورسٹی کے اورئیل کالج کے گورنرز نے سیسل رہوڈز کا مجسمہ ہٹانے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے جس کے بعد مجسمہ ہٹانے کی مہم آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

امریکی سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف مہم کا آغاز ہو گیا جس میں سامراجیت کو پروان چڑھانے والی عالمی شخصیات کے مجسمے ہٹانے کی مہم نے بھی زور پکڑ لیا۔

برسٹل میں ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کو ہٹانے کے بعد بلیک لائیوز میٹرز نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں رہوڈز سکالرشپ کے بانی سیسل رہوڈز کا مجسمہ ہٹانے کا بھی مطالبہ کر دیا جنھیں بعدازاں یونیورسٹی کے طلباء کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ۔

سیسل رہوڈز کی زندگی بھی اسی سامراجی طبقہ سے جڑی ہوئی ہے لیکن دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے ہزاروں اہم افراد نے اسی سیسل رہوڈز کے مالی تعاون سے چلنے والی سکالرشپ سے عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلی تعلیم بھی حاصل کر رکھی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے جب کہ ان میں درجنوں افراد کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر لارڈ پیٹن نے اسی بنیاد پر مجسمے کو ہٹانے کی مہم کو منافقت کہا تھا کہ جس شخص کے مجسمے کو ہٹانے کا مطالبہ ہو رہا ہے اس کے مالی تعاون کی وجہ سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے قابل طلباء فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں اور اس نکتے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں: سیاہ فام کی ہلاکت کیخلاف مظاہرے  آکسفورڈ یونیورسٹی سے مجسمہ ہٹانے کا مطالبہ

قبل ازیں آکسفورڈ کے کونسلرز اور ممبران پارلیمنٹ نے بھی مجسمہ ہٹانے کی مہم کی حمایت کر رکھی ہے امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد ایک منصوبے کے تحت اس مجسمے کو ہٹا کر آکسفورڈ یونیورسٹی کے تاریخی عجائب گھر کی زینت بنا دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں