site
stats
اے آر وائی خصوصی

اسٹریٹ چلڈرنز کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

لاہور/ کراچی : پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بے گھر بچوں کا دن منایا جا رہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں سو ملین سے زئد بچے آوارگی کی زندگی گزار رہے ہیں، اسٹریٹ چلڈرنز کا عالمی دن سال2014سے منایا جارہا ہے۔

اس دن کا مقصد ان بے گھر بچوں کو بھی دیگر بچوں جیسی آسائشیں مہیا کرنا ہے، ان بچوں کی تعلیم، صحت، تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے لوگوں میں شعور اُجاگر کیا جائے تاکہ دنیا بھر کے یہ بچے بھی مستقبل میں معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

یہ دن پہلی بار کنسورشیم فار اسٹریٹ چلڈرن نامی تنظیم نے لندن میں منایا جس کے بعد اس دن کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دنیا بھر میں منایا جانے لگا۔ اس موقع پر دن کی مناسبت سے بے گھر بچوں کی فلاح بہبود کیلئے تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے، جن میں ان بچوں کی مناسب تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر پرورش کرنے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

دنیا بھرمیں بیشتر بچے والدین کے فوت ہونے کے بعد بے سہارا ہو کر گھروں سے نکل پڑتے ہیں جبکہ غربت کے مارے خاندانوں کے بچے ایک وقت کی روٹی نہ ملنے کے سبب روٹی روزی کے چکر میں گھروں کو خیرباد کہہ دیتے ہیں جبکہ بیشتر بچے بری سوسائٹی کی وجہ سے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 1.5ملین سے بے گھر بچے موجود ہیں پاکستان میں سب سے زیادہ اسٹریٹ چلڈرن کراچی کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں ہیں جہاں سینکڑوں بچے روزانہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

علاوہ ازیں لاہورملک بھر کی طرح لاہور کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بھی اسٹریٹ چلڈرن کا عالمی دن منایا گیا جس میں بچوں کی شاندار پرفارمنس نے حاضرین کے دل جیت لئے۔ گلی کوچوں سے لائے جانے والے بچوں نے آنکھوں میں امید کے دیپ جلائے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں اسٹریٹ چلڈرن کا عالمی دن منایا۔

تقریب میں شریک ہر بچے کی ایک کہانی تھی لیکن ہمت اور حوصلہ انہیں ٹوٹنے نہیں دیتا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اندازاً ایک لاکھ بچے گلی کوچوں اور فٹ پاتھوں پہ زندگی گزارتے ہیں جن کے لئے حکومتی سطح پر قائم اداروں میں سر چھپانے کے لئے چھت اور ضروریاتِ زندگی فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں : اسٹریٹ چلڈرن فٹبال ٹیم تیسری پوزیشن حاصل کرکے وطن لوٹ آئی

ملکی قوانین میں کمسن بچوں سے بھیک مانگنے کو جرم تو قرار دے دیا گیا تھا لیکن اس قانون پر تاحال عمل درآمد کرانے کی ہی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top