The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نےپاناماکیس فیصلے پرنظر ثانی درخواستیں مسترد کردیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی سے متعلق درخواستوں کو مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما کیس فیصلے پر نظرثانی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےنظرثانی درخواستوں پرفیصلہ پڑھ کرسناتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کی تمام درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تمام وکلا نے بھرپورمعاونت کی جس پران کا شکرگزار ہوں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فیصلےکی تفصیلی وجوہات بعد میں تحریرکی جائیں گی۔


سلمان اکرم راجہ کے دلائل


خیال رہے کہ اس سے قبل عدالت عظمیٰ میں کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کے بچوں کےوکیل سلمان اکرم راجہ دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیپٹن ریٹائرد صفدر کی بھی وکالت کررہا ہوں۔

نوازشریف کےبچوں کے وکیل نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرد صفدر کے خلاف بھی ریفرنس کا حکم دیا جبکہ ان کا لندن فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی کیپٹن(ر) صفدرکا فلیٹس سے تعلق نہیں بتایا اورٹرسٹ ڈٰیڈپردستخط سے کیپٹن ریٹائرد صفدر فلیٹس کے مالک نہیں بن گئے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پردستخط بطور گواہ کیے گئے تھے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جےآئی ٹی نےکوئی نا کوئی تو کنکشن بنایا ہی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریماکیس دیے کہ جے آئی ٹی کےمطابق مریم نواز فلیٹس کی بینیفشل مالکہ ہیں،جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کیپٹن (ر) صفدر کا فلیٹس سے تعلق نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ معاملے پر تفصیلی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ براہ راست ریفرنس سے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ پرکوئی آبزرویشن اثرانداز نہیں ہونے دیں گے، واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کسی کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

سابق وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں ہردستاویز پر کھل کر رائے دی اور دفاع میں جو گواہ پیش کرنے تھے ان پر بھی رائے دے دی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جسٹس عظمت سعید اورجسٹس اعجاز افضل نے رائے نہیں دی جس پرجسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم دونوں بھی کھل کر رائے دیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیرکیس میں عدالت نے رائے دی لیکن ٹرائل پراثراندازنہیں ہوئی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ فیئرٹرائل اور بنیادی حقوق پرسمجھوتہ نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ ضمانت کےمقدمات میں بھی لکھتےہیں ٹرائل کورٹ آزادانہ کام کرے گی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریماکیس دیے کہ جعلی دستاویزات کے معاملے پرعدالت نے کوئی رائے نہیں دی،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم تو نظرثانی کی دوسرے فریق سے امید کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آپ ہم پراعتبار کیوں نہیں کرتے،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا آپ کو بیان حلفی دیں پھر یقین کریں گے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ جے آئی ٹی پر جرح کرسکتے ہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ لکھنے میں کافی احتیاط سے کام لیا ہے۔


حدیبیہ پیپر مل ریفرنس میں شیخ رشید کے دلائل


حدیبیہ پیپرمل کیس میں شیخ رشید کی جانب سے دلائل کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا حدیبہ ملزکی اپیل سےمتعلق تحریری حکم جاری ہوا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ نیب نے عدالت میں کہا ایک ہفتے میں اپیل دائر کریں گے،نیب نے بغیر پوچھے کہا تھا اپیل دائر کریں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہنا چارہے ہیں کہ اپیل دائر نہیں ہورہی، جس پر شیخ رشید نےجواب دیا کہ نیب چیئرمین نے کہا اپیل دائر نہیں کریں گے۔

پراسیکیوٹر نیب نے عدالت عظمیٰ میں کہا کہ چیئرمین نیب نے اپیل دائر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حدیبیہ کیس سے ہی فلیٹس سمیت تمام مقدمات نکلے،حدیبہ کیس تمام جرائم کی ماں ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی حکومت اپنی مرضی کا لگاتی ہےجبکہ ہاری ہوئی پارٹی نہیں چاہتی کہ ان کے کیس کھلیں۔

عدالت عظمیٰ میں نیب نے ایک ہفتے میں اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کرادی، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دوران سماعت ریماکس دیے کہ 3 رکنی بنچ کے خلاف درخواستیں اب غیرمؤثر ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا آپ بھی ان کو سننے پر اصرارکریں گے،جس پرنوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 3 رکنی بینچ کے خلاف درخواستوں کو سننے کی ضرورت نہیں رہی۔

سپریم کورٹ میں نیب کی یقین دہانی پرعوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست نمٹا دی گئی۔


جے آئی ٹی دستاویزات کےمطابق نوازشریف نے تنخواہ وصول کی‘ سپریم کورٹ


واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پرپاناما کیس فیصلے پر نظرثانی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریماکس دیے تھے کہ دستاویزات کہتی ہیں کہ نوازشریف نے ملازم کی حیثیت سے تنخواہ وصول کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں