وزیراعظم کےبچوں کےوکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنےدلائل مکمل کرلیے
The news is by your side.

Advertisement

پاناماعمل کیس: سماعت مکمل‘ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد:  پاناما عمل درآمد کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نےسماعت مکمل کرتےہوئےعدالتی فیصلہ محفوظ کرلیا‘ فیصلہ سنانےکی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائےگا۔

تفصیلات کےمطابق جسٹس اعجازافضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے3 رکنی عمل درآمد بینچ نےپاناما کیس کی سماعت مکمل کی۔

سماعت مکمل کرکےمعزز جج صاحبان نے اپنی رائے دی کہ جو بھی کہنا سننا اور دیکھنا تھا وہ کرلیا‘ فیصلے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔


بچوں کے وکیل کے دلائل


وزیراعظم کےبچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سماعت کےآغاز پر اپنےدلائل دیتے ہوئےکہاکہ عدالت نےکل ٹرسٹ ڈیڈ پرسوال اٹھایاتھا،کہا گیا تھا بادی النظرمیں دستاویزات جعلی ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ کل بھی کہا تھامعصومانہ وضاحت موجودہے،انہوں نےکہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پرایک جیسےدستخط پرشریف خاندان خطاوار نہیں،ایسا سب کچھ غلطی سےہوا۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نےکہا کہ نیلسن نیسکول پرکومبرگروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ سےمختلف دستخط ہیں،جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نےکہا کہ یہ بات توہم بھی دیکھ سکتےہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ اکرم شیخ نےغلطی سےصفحات غلط لگ گئےتھے،یہ غلطی اکرم شیخ کےچیمبرمیں ہوئی،کسی بھی صورت جعلی دستاویزات دینےکی نیت نہیں تھی۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نےکہاکہ ماہرین نےغلطی والی دستاویزات کا جائزہ لیا تھا،جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نےکہا کہ اب مسئلہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہےجبکہ دوسرامعاملہ چھٹی کےروزنوٹری ہونےکا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ سوشل میڈٰیا پربہت سےلوگوں نےمجھےلیگل فرم کےبروچربھیجے،انہوں نےکہا کہ لندن میں یہ معمول کا کام ہےچھٹی کےدن نوٹری ہوتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ حسین نواز نے واضح  کہا تھا چھٹی  کے دن  لندن میں  وقت  نہیں ملتا،انہوں نے کہا کہ حسین نواز نے چھٹی کے دن نوٹری سےملاقات کی تردید کی تھی۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نےکہا کہ حسین نوازسےعمومی سوال پوچھا گیا تھا جبکہ حسین نوازنےجواب بھی عمومی نوعیت کا دیا تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ سوال عموعی نہیں واضح تھا۔

 جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ والیم10میں جےآئی ٹی خطوط کی تفصیل ہوگی جس سےبہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ خواجہ صاحب یہ والیم آپ کی درخواست پرکھولا گیا ہے،انہوں نےکہا کہ ہرکام عدالت میں شفافیت سےکرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ چھوٹی سے چھوٹی سچائی بھی سامنےلانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہاکہ رات کو آپ سو بھی سکے تھے یا نہیں جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہا کہ یہ بات اپنے تک ہی  رکھنا چاہتا ہوں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ نوٹ کرلیا ہفتےکوسولیسٹردستیاب ہوتےہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیا تصدیق کرنے والاسولیسٹر بھی ہفتے کو کھلا ہوتاہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ حسین نے نہیں کہا سولیسٹر چھٹی  کے روز دستیاب ہوتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ خواجہ حارث سے پہلے والیم 10کسی کونہیں دکھائیں گے،جس پر وزیراعظم  کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی صوابدید ہےجس کو چاہے دکھائیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آج سلمان اکرم راجہ نے اچھی تیاری کی،عدالت نے خواجہ حارث کو والیم  10کی مخصوص دستاویز پڑھنے کو دی۔

عدالت نے کہا کہ 23جون کو جے آئی ٹی  نے خط  لکھا جواب میں اٹارنی جنرل بی وی آئی کاخط آیا،جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ کیا اس  سے اتفاق  کرتے ہیں ریفرنس نیب کوبھجوا دیا جائے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ میراجواب ہے کیس مزید تحقیقات کا ہے،انہوں نے کہا کہ خطوط کو بطور شواہد لیا جاسکتاہے لیکن تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ شواہد کو تسلیم کرنا نہ کرنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے،انہوں نے کہا کہ کل پوچھا تھا کیا قطری شواہد دینے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نےکہا کہ قطری کی جانب سےکچھ نہیں کہہ سکتا۔ جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ کل پوچھا تھا قطری شواہد دینے کےلیےتیارہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قطری کو ویڈیولنک کی پیشکش نہیں کی گئی تھی،انہوں نےکہا کہ   2004تک حسن اورحسین نواز کو سرمایہ ان کے دادا دیتےتھے۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل نے کہا کہ بچوں کےآمدن سےزائداثاثوں پرنوازشریف پرانگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔

عدالت نےکہا کہ عوامی عہدہ رکھنے والے کے اثاثے آمدن کے مطابق نہ ہوں تو کیا ہوگا؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ نوازشریف نے اسمبلی میں واضح کہا تھا یہ  آمدن کے ذرائع  ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ نوازشریف نے کہا تھا منی ٹریل اورشواہد موجودہیں، جبکہ چند دستاویزات اسپیکرکو پیش کیے گئے جو کبھی سامنے نہیں آئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ وزیراعظم نے فلیٹس اوربچوں کےذرائع آمدن بھی بتائے،انہوں نےکہا کہ وزیراعظم نےفلیٹس اوربچوں کےذرائع آمدن بھی بتائے جبکہ انہوں نے ہمارےکا لفظ استعمال کیاتھا۔


اسحاق ڈار کےوکیل کےدلائل مکمل


طارق حسن کےوکیل نےاسحاق ڈارکا34 سال کا ٹیکس ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔ جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ سوچ رہا ہوں یہ سیکیورٹی والوں سے کلیئرکیسےہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ یہ بڑ ابڑ اٹیکس ریکار ڈہمارے لیے لکھاہے،یہ سارا دن ٹی وی کی زینت بنا رہےگا۔

طارق حسن نےکہا کہ سنا ہےجے آئی ٹی نے بھی ایسا ہی کیا تھا،جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہا کہ  کیا آپ بھی ان کے پیچھے چل رہےہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ آپ کا نکتہ تھا جےآئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا،انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں آپ اثاثوں میں اضافے پرمطمئن نہیں کرسکےتھے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ یہ آپ کےخلاف نئی قانونی چارہ جوئی کی وجہ بھی بن سکتاہے،انہوں نے کہا کہ چلیں ایک منٹ کےلیےحدیبیہ پیپرملزکو چھوڑ دیتےہیں۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اسحاق ڈارکے خلاف کافی مواد ہے،آپ کا مؤقف ہے حدیبیہ پیپرز ملز دوبارہ نہیں کھولاجاسکتا۔
جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ نہ ہونے کا بھی مسئلہ تھا،انہوں نےکہا کہ اب اسحاق ڈارکا ٹیکس ریکارڈ سامنے آگیا ہے۔

اسحاق ڈار کے وکیل  نے کہا کہ اسحاق ڈارکھلی کتاب کی طرح ہیں کچھ نہیں چھپاتے،وہ ہمیشہ سے ٹیکس ریٹرن فائل کرتےہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ5 سال  میں  اثاثے9 ملین  سے837 ملین کیسےہوگئے،انہوں نے کہا کہ دبئی کےشیخ سےملنے والی تنخواہ اورتعیناتی کاریکارڈہے؟۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دبئی کے شیخ کے3 خطوط کےعلاوہ کوئی اور مواد ہے؟جس پرطارق حسن نےکہا کہ مجھے یہ دستاویزات جمع کرانے کے لیےنہیں کہا گیا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کےاثاثوں کا حساب ہو رہاہے۔انہوں نےکہا کہ کیا آپ کو ریکارڈ پیش نہیں کرنا چاہیےتھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ عربوں کے مشیربننے پر کیا کاغذی کارروائی ہوتی ہےمعلوم نہیں،اسحاق ڈار40 سال سے پروفیشنل اکاؤنٹینٹ ہیں۔

طارق حسن نےکہا کہ بطور وکیل 2لاکھ کماتا ہوں توظاہرکرتاہوں۔ جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ آپ 2لاکھ سالانہ کماتے ہیں تو یہ شعبہ چھوڑدیں۔

طارق حسن نےکہا کہ جے آئی ٹی کے پاس ریکارڈ نہیں تھا تو نتائج کیسے مرتب ہوئے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ کتنی بارکہہ چکے ہیں ہم رپورٹ پرفیصلہ نہیں کریں گے۔

اسحاق ڈار کےوکیل نے کہا کہ میرےموکل کے خلاف کوئی مقدمہ ہےنہ کوئی شواہد ہیں،جبکہ ریکارڈ جب جے آئی ٹی کودیا گیا توحوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔

طارق حسن نےکہا کہ گوشواروں میں اپنی غیرملکی آمدن بھی ظاہرکردی ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں یہ کیس چلتا رہے کبھی ختم نہ ہو۔
اسحاق ڈار کےوکیل نے کہا کہ بلاوجہ احتساب میں گھسیٹنا قبول نہیں،جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ یہ ڈرامائی کہانی ہے تو کیا آپ چاہتےہیں کہانی ڈرامےکی طرح ختم ہو۔

جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ جو تحریری جواب آپ نے دیا یقین رکھیں اس کاجائزہ لیا جائےگا،انہوں نےکہا کہ تحریری جواب سے ہٹ کردلائل ہیں تووہ دیں ہم سنیں گے۔

طارق حسن نےکہا کہ اسحاق ڈاربار باراسکروٹنی کرا کرتھک چکےہیں یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے،جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ تمام تحریری مواد کاجائزہ لیں گے۔

انہوں نےکہا کہ اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہوئے تھے،اسحاق ڈار کےوکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایسا لگتا ہےکہ میرے موکل ملزم ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی میں استحقاق مانگتے رہے،سمجھ نہیں آتا استحقاق کیس چیز کا مانگا جاتاتھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ اسحاق ڈار کے بیٹے نے ہل میٹل کو فنڈز فراہم کیے،جس پرطارق حسن نےکہا کہ اس نوعیت کی صرف ایک ہی ٹرانزیکشن تھی۔

اسحاق ڈار کےوکیل نے کہا کہ ان کےموکل اس ٹرانزیکشن سے مجرم کیسےہوگئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ اسحاق ڈار کا بیٹا بیرون ملک کمپنی سےوالد کو پیسے بھیجتا رہا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ اسحاق ڈار کا اپنےبیٹے سے پیسے لینا ٹیکس بچانےکے لیےتھا۔

عدالت نےکہا کہ کیا آپ ماضی کی طرح پھرشریف خاندان کے خلاف گواہ بنناچاہتے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ علی ڈار نے والد اسحاق ڈار کو تحفے میں رقم دی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ جے آئی ٹی کےمطابق اسحاق ڈار نے رقم پرٹیکس ادا نہیں کیا،انہوں نےکہا کہ 7 سال میں اثاثوں میں 800 ملین کا اضافہ حیران کن ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ طارق حسن آپ نے اسحاق ڈار کے ساتھ انصاف کردیا ہے،ہمیں بھی ڈار صاحب کےساتھ انصاف کرنے دیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ وعدہ کرتے ہیں تحریری دلائل اور دستاویزات کا جائزہ لیں گے۔انہوں نےکہا کہ فریقین سن لیں کیس میں قانون سے باہرنہیں جائیں گے۔
جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ سب کے بنیادی حقوق کا احساس ہے،کیس میں ردعمل دیکھے بغیرصرف قانون پرچلے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اب بھی صرف قانون کا راستہ ہی اپنائیں گے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ فریقین ایک دوسرے کوبرابھلا کہتےہیں پرہمیں کچھ نہ کہیں،جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ اس وقت تک کیس سنیں گے جب تک آپ تھک نہ جائیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس چیز کی آئین نےاجازت نہیں دی وہ نہیں کریں گے۔جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ کیس ختم ہوجائےگا آپ چلے جائیں گےمگرہماراکام جاری رہےگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے تھے اسی لیے کیس روزانہ سنا۔ جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ بہت زیادہ تفصیل دینا بھی کہانی کو برباد کردیتاہے۔


ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقارکےدلائل مکمل


                ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نےکہاکہ عدالت نے تمام فریقین کو تمام مواقع دیے ہیں جبکہ عدالت کےپاس کچھ نیا مواد بھی سامنےآیا ہے۔

     رانا وقار نے کہاکہ عدالت قرار دے چکی ہےکہ جے آئی ٹی سفارشات پرعمل ضروری نہیں ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نےکہاکہ تحریری گزارشات ایک دن میں جمع کرادوں  گا ۔


نیب کےقائم مقام پراسیکیوٹرجنرل کےدلائل


جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ حدیبیہ کیس دوبارہ کھولناچاہتے ہیں؟جس پر نیب کےقائم مقام پراسیکیوٹرجنرل اکبرتارڑ نےکہا کہ حدیبیہ کیس اپنی مرضی سے نہیں کھول سکتے ہیں۔

نیب کےوکیل نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں اپیل دائر کرنے کا سوچ رہے ہیں،جس پرجسٹس اعجازافضل نےکہا کہ سوچنے کا عمل کتنا عرصہ چلےگا۔


تحریک انصاف کےوکیل کےدلائل


تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ نوازشریف عدالت اور قوم کےسامنے صادق اور امین نہیں رہے۔انہوں نےکہا کہ ایف زیڈ ای کو نوازشریف نے ظاہرنہیں کیا۔

نعیم بخاری نےکہا کہ نوازشریف نے ورک پرمٹ اور چیئرمین ہونا بھی چھپایا اور اس کے ساتھ ساتھ  تنخواہوں کی رسیدیں بھی چھپائیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ دوسری طرف کا موقف ہےکہ تنخواہ کبھی نہیں لی گئی،جس کےجواب میں نعیم بخاری نےکہا کہ تنخواہ وصول کرنے کی دستاویزات موجودہیں۔

عدالت نےکہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کااطلاق ہواتومعاملہ الیکشن کمیشن کونہیں جائےگا؟جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کےدائرہ اختیار میں آتاہے۔

تحریک انصاف کےوکیل نےکہا کہ اثاثے ظاہرنہ کرنا آرٹیکل 62 اور 63 کےزمرے میں آتاہے۔انہوں نےکہا کہ الیکشن کےبعد بھی ایف زیڈ ای کمپنی کو ظاہرنہیں کیاگیا۔

نعیم بخاری نےکہا کہ نوازشریف نےگلف ملزکی 33ملین فروخت کا بھی جھوٹ بولا جبکہ دبئی حکومت نے کہہ دیا کہ 12 ملین درہم منتقل نہیں ہوئے۔

تحریک انصاف کےوکیل نےکہا کہ اسمبلی میں جدہ ملزکی 63 ملین ریال میں فروخت کا جھوٹ بولا گیا جبکہ جدہ ملزسے42ملین ریال ملے جو 3 حصہ داروں میں تقسیم ہوناتھے۔

نعیم بخاری نےکہا کہ لندن فلیٹس حاصل تو بچوں کی عمریں کم تھیں اور نوازشریف کے بچوں کا ذریعہ آمدن نہیں تھا۔

انہوں نےکہا کہ پہلے کبھی میاں شریف کو فلیٹس سے نہیں جوڑا گیا،پہلے کہا گیا تھا کہ قطری سرمایہ کاری کے نتیجے میں فلیٹس ملے۔

تحریک انصاف کےوکیل نےکہا کہ حسین نواز نے نوازشریف کو 1ارب سے زائد کے تحائف دیے اور یہ تمام رقم نوازشریف کو ہل میٹل کے ذریعے ملی۔

نعیم بخاری نےکہا کہ ہل میٹل اور حسین نواز 2 الگ الگ چیزیں ہیں جبکہ ہل میٹل سے ملنے والی رقم پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ یہ ناقابل یقین ہے ہل میٹل کا 88 فیصد منافع نوازشریف کو مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 88 فیصد نوازشریف کو ملا تو ہل میٹل کے پاس کیا بچا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ امریکہ سے بھی رقم موصول ہونےکے شواہد ملے جبکہ شیخ سعید نے بھی نوازشریف کو 10 ملین دیے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا عوامی عہدہ رکھنے والے پر ملازمت کی پابندی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ معاملہ مفادات کے ٹکراؤ کا ہے۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا ججز پرتوآئین میں واضح پابندی موجود ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزیراعظم پرکوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ آپ کی درخواست میں ان باتوں کا ذکر نہیں، یہ سب معاملات جے آئی ٹی میں سامنے آئے ہیں ۔انہوں نےکہا کہ کیا دوسرے فریق کو سرپرائز دیا جاسکتا ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ نوازشریف نے 10 کروڑ دے کر ن لیگ سے ساڑھے چار کروڑ واپس لیے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا نوازشریف یہ کہہ دیتے فلیٹس میاں شریف نے خریدے۔

تحریک انصاف کے وکیل نےکہا قطری خط کو باہر نکال دیں تو شریف خاندان ہی فلیٹس کا مالک ہے جبکہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوگئی ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ مریم بینفیشل اونر تسلیم کرلیں توزیرکفالت ہونے کا معاملہ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست میں مریم کو زیر کفالت ہونے کا کہا تھا۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ مریم کے زیرکفالت ہونے کے واضح شواہد نہیں ملے۔ عدالت نے کہا کہ دیکھنا ہوگا 90 کی دہائی میں نوازشریف کے بچوں کا ذریعہ آمدن تھا یا نہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ ذریعہ آمدن ثابت نہ ہوا تو اثر وزیراعظم پرہوگا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ نوازشریف بطور رکن اسمبلی اہل نہیں رہے ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ جے آئی ٹی بنی تو سب نے کہاکہ آزادانہ کام نہیں کرسکے گی۔
جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ جےآئی ٹی نےاپنی حیثیت سےبڑھ کرکام کیا،ممکن ہےکچھ غلطیاں بھی ہوں۔

انہوں نےکہا کہ مشکل حالات میں بھی جے آئی ٹی نےزبردست کام کیا،دیکھنا ہوگا جےآئی ٹی مواد کس حد تک قابل قبول ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جےآئی ٹی ممبران کوکہاتھاشکرہےآپ جیسےلوگ موجود ہیں،جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ پاکستان میں اکثریت جےآئی ٹی جیسےلوگوں کی ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ اسحاق ڈار اور شریف خاندان نے اثاثے بڑھانے کا ایک طریقہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ پہلے باہر گیا پھر باہر سے واپس آیا۔

نعیم بخاری نے کہاکہ بطوروزیرخزانہ اسحاق ڈارکے زیراثرتمام مالی ادارےہیں جبکہ عدالت کوفیصلہ کرناہےاسحاق ڈارعوامی عہدےکےاہل ہیں یانہیں۔

تحریک انصاف کےوکیل نےکہا کہ عدالت میں کوئی مشہوربات کی نہ کبھی ٹی وی پرآیا،عدالت پرشبہ خود کو نیچا دکھانے کےمترادف ہے۔

نعیم بخاری نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وزیراعظم نوازشریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نا اہل قرار دیا جائے۔


شیخ رشید کے دلائل مکمل


عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ عظیم ججز کےسامنے پیش ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سپرسکس نے ثابت کر دکھایا کہ پاکستان رہنے کے قابل ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے ایسے ہی افراد کا انتخاب کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے قطری کی سرمایہ کاری کا پوچھا جواب نہیں آیا۔

شیخ رشید نے کہاکہ شریف خاندان نے 13 سوالوں کے جواب بھی نہیں دیے۔ انہوں نےکہا کہ مٹھائیاں بانٹی گئیں لگتا ہے میری طرح ان کی انگریزی کمزور ہے۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نے کہاکہ جے آئی ٹی والوں کو وزیراعظم نے کل تقریر میں دھمکایا ہے۔
شیخ رشید نے کہاکہ وزیراعظم نے کل جے آئی ٹی کو دھمکا کر توہین عدالت کی۔ انہوں نے کہا کہ صاد ق اور امین گلوبل تصور ہوتاہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ لاہور میں صادق اور اسلام آباد میں کرپٹ ہوں۔ شیخ رشید نے کہا کہ جس طرف دیکھو بے نامی دار ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ شریف فیملی پاناما سے اقامہ تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے مختلف اوقات میں پوچھے گئے 371 سوال پیش کردیے۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم نےتو دین والوں کو بھی چونا لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اقامہ لیتے وقت دبئی والوں کو نہیں بتایا گیا پاکستانی وزیراعظم ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نے کہا کہ نوازشریف ، اسحاق ڈار کو اقامے پسند ہیں تو دبئی چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں تنخواہ کلیئر کیے بغیر کمپنی بند نہیں ہوسکتی۔

شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف ہی ہل میٹل سے اصل فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الراجی بینک سے بھی 5 سال کا ریکارڈ مانگا جائے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ ہر تیسرے ہفتے قطری کو خط لکھنے کی روایت پڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الراجی بینک کا معاملہ 62 اور 63 کا بہترین کیس ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف نے بچوں کے موقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ سلمان بٹ نے اونٹوں پر منی ٹریل کی بات کی تھی۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نے کہا کہ قطری خط نکال دیں تو کیس میں کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے محل میں نہ جا کر درست فیصلہ کیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی عدالت نے حفاظت نہ کی تو مسئلہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزرا جے آئی ٹی کے ٹرائل کی بات کر رہے ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نے کہا کہ کیس کو ٹریک سے ہٹانے کے لیے50 ارب نکالے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دعا مانگی تھی جج صاحب کیس کےدوران بیمار نہ ہوجائیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا شیخ صاحب ہمارے لیے دعا مانگتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف عہد ہ چھوٹ دیتے تو والد کی قبر تک نہ جانا پڑتا۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ شیخ رشید نے کہا کہ کیس لمبا ہونے سے عوام میں ہمیں فائدہ ہوا۔
شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم نا اہل نہیں ہوتے تو پھر انہیں معاف ہی کردیں۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدلیہ میں اتنی ہمت نہیں کہ وزیراعظم کا مقابلہ کرے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ کسٹم ایکٹ اور منی لانڈرنگ کےقوانین کو عدالت مد نظر رکھے۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ شیخ صاحب سب قوانین بتادیے موٹروہیکل قانون نہ ڈال دینا۔

شیخ رشید نے کہا کہ یہ اصل میں موٹر سائیکل اور پلگ پانا چور ہیں۔


جماعت اسلامی کےوکیل کےدلائل


جماعت اسلامی کے وکیل نے کہاکہ عدالت نے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ عدالت کا حکم تھا، نہ واپس لیا نہ لیں گے۔

توفیق آصف نے کہا کہ ہم پہلے ہی نااہلی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ گارنٹی دیتے ہیں نااہلی کا معاملہ زیرغور لائیں گے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے جے آئی ٹی سفارشات کےبعد شکوک وشہبات دور ہوچکے۔ انہوں نے کہا کہ 2 ججز پہلے ہی نااہلی کافیصلہ دے چکے ہیں۔


سابق قطری وزیراعظم کا تیسرا خط سپریم کورٹ میں پیش


خیال رہےکہ گزشتہ روز سماعت سے قبل سابق قطری وزیراعظم حماد بن جاسم الثانی کا جے آئی ٹی کو بھیجا گیا تیسرا خط بھی سپریم کورٹ میں پیش کیاگیا تھا، جس میں جے آئی ٹی کو آئندہ ہفتے کے آخر میں دوحہ مدعو کیا گیاتھا۔

حماد بن جاسم کی جانب سے جے آئی ٹی کو یہ خط رواں ماہ 17 جولائی کو لکھا گیا تھا، جس میں پہلے بھیجے گئے 2 خطوط کی بھی تصدیق کی گئی تھی۔

سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے مزید دستاویزات جمع کروائیں تھی،عدالتی بینچ نے دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیےتھے کہ تمام دستاویزات میڈیا پر زیر بحث رہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاتھا کہ میڈیا پر جاری ہونے والی دستاویزات میں ایک خط سابق قطری وزیراعظم کا بھی ہے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ آپ نے میڈیا پر اپنا کیس چلایا تو میڈیا کو دلائل بھی دے دیتے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا تھا کہ باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے، وہاں دلائل بھی دے آئیں۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا تھا کہ میڈیا پر دستاویزات میری جانب سے جاری نہیں ہوئیں۔


منی ٹریل ثابت نہ ہوئی تونتائج وزیراعظم کوبھگتناہوں گے‘ جسٹس اعجازافضل


جسٹس اعجاز افضل نے کہا تھا کہ منی ٹریل کا جواب اگر بچے نہ دے سکیں تو اس کے نتائج پبلک آفس ہولڈر پر مرتب ہوں گے اور انہیں بھگتنا پڑے گا اورہم ان کے خلاف فیصلہ دینے پرمجبور ہوجائیں گے۔


اسحاق ڈار کے وکیل نے دستاویزات جمع کرادیں


واضح رہےکہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کی جانب سے مزید دستاویزات بھی جمع کرائی گئی تھیں، جن میں ٹیکس گوشوارے، دبئی کے شیخ کے خطوط، نیب اور ایف بی آر کی خط و کتابت شامل تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں