spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

سروے: کراچی کے ووٹرز کس کو ووٹ دیں گے؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

کراچی: شہر قائد میں عام انتخابات کے حوالے سے کیے گئے تازہ ترین سروے کے مطابق 25 فی صد لوگوں نے کہا ہے کہ انھوں نے ابھی تک کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے، جب کہ اتنی ہی تعداد میں لوگوں نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پبلک وائس پول نامی ادارے کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے سروے کے مطابق 25 فی صد رائے دہندگان نے کہا کہ اگرچہ وہ 8 فروری کو ووٹ دیں گے تاہم ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔ جب کہ پچیس فی صد نے کہا وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دیں گے۔

24 فی صد افراد نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ووٹ دیں گے، تاہم ان میں سے 73 فی صد کو پتا ہی نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے انتخابی نشانات کیا ہیں۔ 8 فی صد ووٹرز نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے جب کہ 4 فی صد نے ایم کیو ایم اور 7 فی صد نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا کہا۔

پبلک وائس پول کے مطابق سروے ٹیلی فون کے ذریعے 15 جنوری سے 26 جنوری کے درمیان کیا گیا اور اس دوران 10 ہزار کال اور 1800 انٹرویوز کیے گئے۔

کراچی کے ایشوز کے حوالے سے 51 فی صد رائے دہندگان نے کہا کہ پانی، بجلی اور گیس کی قلت سب سے بڑے ایشوز ہیں جو کراچی والوں کو درپیش ہیں۔ 20 فی صد نے امن و امان، 19 فی صد نے بے روزگاری، 16 فی صد مہنگائی، 14 فی صد نے بنیادی ضروریات، 14 فی صد نے غربت، 9 فی صد نے تعلیم، 7 فی صد نے صحت، اور 7 فی صد ہی نے کرپشن کو اہم مسئلہ قرار دیا۔

جب پوچھا گیا کہ 2023 کے بلدیاتی انتخابات میں آپ نے کس جماعت کو ووٹ دیا تو 35 فی صد نے کہا کہ جماعت اسلامی، 26 فی صد نے کہا پی ٹی آئی، 24 فی صد نے کہا کہ کسی کو نہیں، 7 فی صد نے پی پی پی، 4 فی صد نے ٹی ایل پی اور 2 فی صد نے کہا ن لیگ کو ووٹ دیا تھا۔

2018 کے انتخابات کے حوالے سے رائے دہندگان میں سے 45 فی صد نے کہا کہ انھوں نے پی ٹی آئی، 14 فی صد نے ایم کیو ایم، 7 فی صد نے پی پی پی اور 5 پانچ فی صد نے کہا کہ جماعت اسلام کو ووٹ دیے۔ کس جماعت کو ووٹ دیا جائے؟ اس حوالے سے ابھی تک ذہن نہ بنانے والے رائے دہندگان میں سے 58 فی صد نے 2018 میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔

25 فی صد نے کہا کہ انھوں نے ووٹ ہی نہیں دیا تھا جب کہ 11 فی صد نے کہا کہ ایم کیو ایم کو جب کہ 3 فی صد نے کہا کہ انھوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا۔ ان میں سے 39 فی صد نے کہا کہ 2023 کے بلدیاتی انتخابات میں انھوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا۔ 35 فی صد نے بلدیاتی میں ووٹ ہی نہیں دیا جب کہ 25 فی صد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔

جب پوچھا گیا کہ وہ سیاسی لیڈران میں سب سے زیادہ کس سیاسی شخصت کو پسند تو 76 فی صد نے جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کا نام لیا، 62 فی صد نے عمران خان، 55 فی صد نے سراج الحق، 41 فی صد نے الطاف حسین، 41 فی صد نے مرتضیٰ وہاب، 34 فی صد نے نواز شریف اور 6 فی صد نے مصطفیٰ کمال کا نام لیا۔

Comments

- Advertisement -