The news is by your side.

Advertisement

گلوبل وارمنگ پر تحریک برپا کرنے والی نوجوان لڑکی امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد

اسٹاک ہوم: سویڈن کی ایک اسکول طالبہ نے وہ کارنامہ انجام دے دیا ہے جو بڑے بڑوں کی نصیب میں نہیں ہوتا، اسکول کے دوران ماحولیات کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے والی یہ لڑکی امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کی گئی ہے۔

16 سالہ گریٹا تُھن برگ نے نویں جماعت میں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اگست 2018 میں عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) اور موسمیاتی تغیر روکنے کے لیے سویڈن کی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر عام انتخابات سے قبل اسکول ہڑتال شروع کیا۔

سویڈن حکومت سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے مطالبے کے بعد گریٹا تھن برگ نے ہر جمعے کے دن ’اسکول ہڑتال برائے ماحولیات‘ کا آغاز کیا اور پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔

نوجوان لڑکی کی یہ انوکھی ہڑتال نہ صرف سویڈین میں مقبول ہوگئی بلکہ اس نے پوری دنیا میں شہرت حاصل کرلی، اور کئی دیگر ممالک میں یہ تحریک شروع ہوئی۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے خدمات پر گریٹا تھن برگ کو ناروے کے تین اراکینِ اسمبلی نے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے، خود گریٹا بھی اتنی کم عمری میں سیاسی ایکٹوسٹ کے طور پر مشہور ہے۔

گریٹا تھن برگ نے اس خبر کے ردِ عمل میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ نامزدگی ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

اگر وہ نوبل حاصل کر لیتی ہیں تو وہ یہ انعام جیتنے والی سب سے کم عمر شخصیت ہوں گی، پاکستان کی ملالہ یوس فزئی نے یہ انعام 17 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کلائمٹ چینج کی طرف توجہ دلانے کے لیے دنیا بھر میں آج بچے اسکول سے چھٹی پر

خیال رہے کہ گریٹا نے ’فرائیڈے فار فیوچر‘ نامی تحریک شروع کی ہے جس کے تحت آئندہ جمعے کو دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک میں ہزاروں طلبہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف احتجاج کریں گے۔

اس تحریک کے تحت اب تک جرمنی، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور جاپان میں اسکول طلبہ کی طرف سے احتجاج کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  8 سالہ میکسیکن بچی نے نیوکلیئر سائنس پرائز جیت لیا

گریٹا ہر جمعے کو اسکول سے ناغہ کرتی ہیں اور ماحولیات کے لیے باقاعدہ اسکول ہڑتال پر ہوتی ہیں، دل چسپ بات یہ ہے کہ گریٹا کو چند ایسی بیماریاں لاحق ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگوں میں گھل ملنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔

دسمبر میں پولینڈ میں اقوام متحدہ کی کلائمیٹ ٹالکس اور جنوری میں ڈیویس میں ورلڈ اکنامک فورم میں تقاریر کرنے کے بعد انھیں عالمی شہرت ملی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں