The news is by your side.

Advertisement

“سومیر دراصل اپنے زمانے کا برطانیہ یا جاپان تھا”

قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں میں عراق کی سومیری قوم کو دنیا کی سب سے پہلی پڑھی لکھی قوم مانا جاتا ہے جن کا‌ دور ہر لحاظ سے شان دار اور قابلِ ذکر ہے۔ اس حوالے سے معروف ترقّی پسند ادیب اور علمی و فکری موضوعات پر اپنی تصانیف کے لیے مشہور سیّد سبطِ حسن کی کتاب “تہذیب سے تمدّن تک” سے یہ پارہ قدیم اقوام کے بارے میں آپ کی معلومات میں اضافے اور دل چسپی کا باعث بنے گا۔

وہ لکھتے ہیں: سومیر کی زمین معدنیات سے خالی تھی۔ وہاں نہ تانبا ہوتا تھا، نہ ٹن، نہ سونا، نہ چاندی حتّٰی کہ کھجور کے علاوہ کوئی لکڑی بھی میسرنہ تھی، مگر اہلِ سومیر کے پاس اناج کی افراط تھی اور اناج ایسا مال تھا جس کے عوض وہ ہر قسم کی دھات اور لکڑی دوسرے ملکوں سے درآمد کر سکتے تھے۔

چناں چہ تانبہ اناطولیہ اور آرمینا اور آذربائیجان سے، کانسہ عمان سے، ٹن ایران اور افغانستان سے، چاندی کوہِ تاؤراس (اناطولیہ) سے، سونا ہاتھی دانت اور قیمتی لکڑی وادیِ سندھ سے اور دیودار کی لکڑی لبنان سے آتی تھی۔

اہلِ سومیر اِن خام اشیا سے نہایت عمدہ قسم کی مصنوعات تیار کرتے تھے۔ اور پھر انہیں دوسرے ملکوں کے ہاتھ فروخت کر دیتے تھے۔ سومیر دراصل اپنے زمانے کا برطانیہ یا جاپان تھا۔

دراصل اشیائے خام کی قلّت کسی محنتی اور ہوشیار قوم کے لیے کبھی رکاوٹ نہیں بن سکتی بلکہ حوصلہ اور ہمّت کی آزمائش انہی نامساعد حالات ہی میں ہوتی ہے۔ جن لوگوں کے قویٰ کم زور اور دل و دماغ ضعیف ہوتے ہیں وہ حالات کی سخت گیریوں اور جفا طلبیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ البتہ جو قومیں کار زارِ ہستی میں جہد اور جفاکشی کو اپنا شعار بناتی ہیں، وہ ترقّی کی دوڑ میں دوسرے پر سبقت لے جاتی ہیں۔

سومیر ایسے ہی جیالوں کی بستی تھی۔ چناں چہ محل اور معبد کی سخت گیریاں بھی اہلِ سومیر کی تخلیقی اور صنعتی صلاحیتوں کو کچل نہ سکیں۔ اسی بنا پر پروفیسر وولی کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ’’مقامی حالات ہی نے اہلِ سومیر کو مہذّب بننے پر مجبور کر دیا۔ وہ برآمد کے لیے مصنوعات تیار کرتے تھے تاکہ اپنی ملکی ضروریات کے لیے خام مال حاصل کرسکیں۔ وہ دھاتوں کے سب سے اچّھے کاری گر تھے۔ حالاں کہ ان کے ملک میں دھاتیں ناپید تھیں۔‘‘

سومیر کے شہر تجارتی اور صنعتی شہر تھے۔ ہر پیشے کی اپنی ایک برادری (گلڈ) ہوتی تھی اور اس برادری میں کوئی باہر والا داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ پیشے آبائی ہوتے تھے۔ اور نسلاً بعد نسل اولاد میں منتقل ہوتے رہتے تھے۔ اس لیے سونار کا بیٹا عام طور پر سونار اور بڑھئی کا بیٹا بڑھئی ہوتا تھا۔ بعض ایسے پیشے تھے جن کے لیے چھوٹی دکانیں یا کوٹھریاں بھی ہوتی تھیں۔ مثلا ٹھٹھیرے یا درزی کا پیشہ لیکن بعض پیشوں کے لیے زیادہ جگہ درکار ہوتی ہے۔ مثلاً جلاہوں کا پیشہ، چناں چہ کپڑا بُننے کے لیے عام طور پر کارگاہوں میں کام کرتے تھے۔

اکثر و بیش تر کارگاہیں تو مندر کی ملکیت ہوتی تھیں لیکن بعض بیوپاریوں کی اپنی نجی کارگاہیں بھی تھیں۔ مندر کی کارگاہوں میں مردوں کے دوش بہ دوش عورتیں بھی کام کرتی تھیں۔ کاری گروں کو اجرت چاندی میں ادا کی جاتی تھی۔ گو اس وقت تک سکّے ایجاد نہیں ہوئے تھے، لیکن چاندی کا ایک خاص وزن جس پر ٹھپہ لگا ہوتا تھا، بہ طور سکّہ استعمال ہوتا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں