The news is by your side.

Advertisement

معروف افسانہ نگار، شاعرہ اور فلم ساز تبسّم فاطمہ راہیِ ملکِ عدم ہوئیں

ہندوستان کی معروف شاعرہ، افسانہ نگار، نقّاد، صحافی، مترجم اور فلم ساز تبسّم فاطمہ انتقال کر گئیں۔ گزشتہ روز ان کے شوہر اور معروف فکشن نگار مشرف عالم ذوقی مختصر علالت کے بعد اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔

ہندوستان کے معروف فکشن نگار مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ تبسّم فاطمہ اپنے شوہر کی اچانک موت کا صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور ان کے انتقال کے ایک روز بعد انھوں نے بھی ہمیشہ کے لیے دنیا سے منہ موڑ لیا۔ وہ اپنے شوہر اور اکلوتے بیٹے کے ساتھ دہلی میں مقیم تھیں۔

تبسّم فاطمہ نے نفسیات میں ایم اے کیا تھا۔ وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں افسانے، کہانیاں‌ اور مضامین لکھتی رہی ہیں جو معروف ادبی رسائل اور اخبار کی زینت بنے۔ اردو میں ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ’لیکن جزیرہ نہیں‘ ،’ستاروں کی آخری منزل‘، ’سیاہ لباس‘ کہانیوں کے مجموعے ہیں جب کہ ’میں پناہ تلاش کرتی ہوں‘، ’ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے‘، ’تمہارے خیال کی آخری دھوپ‘ ان کی شاعری کے مجموعے ہیں۔ ہندی زبان میں ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ 2018ء میں شایع ہوا تھا۔

انھوں نے اردو سے ہندی میں بیس سے زائد کتب کا ترجمہ کیا۔ ان میں کہانیاں اور شاعری بھی شامل ہے۔

تبسّم فاطمہ نے بھارتی ٹی وی چینلوں پر ادبی پروگرام کی میزبانی بھی کی جب کہ فلم کے میدان میں انھوں نے پچاس سے زائد ادیبوں کے فن اور ان کی زندگی پر فلمیں بنائیں۔ تبسم فاطمہ کا شمار ان ادبی شخصیات میں کیا جاسکتا ہے جو فنونِ لطیفہ اور ادب کے مختلف شعبوں میں نہایت فعال و متحرک رہیں اور خاصا کام کیا۔ انھیں کئی ادبی ایوارڈوں سے نوازا گیا اور پاک و ہند کے علمی و ادبی حلقوں میں بھی اپنی تخلیقات کی وجہ سے مقبول ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں