The news is by your side.

Advertisement

براؤزنگ ٹیگ

POETRY

آج معروف شاعر محسن بھوپالی کی گیارہویں برسی ہے

آج اردو ادب کو لافانی اشعار دینے والے معروف شاعر محسن بھوپالی کی 11ویں برسی ہے‘ انہوں نے اردو شاعری کو نئی جہت عطا کی اورزندگی بھر مزاحمت کا استعارہ بنے رہے۔ محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے…

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں…

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے وہ آگے آگے تیز خرام میں اس کے پیچھے پیچھے افتاں خیزاں آوازیں دیتا شور مچاتا کب سے رواں ہوں برگ خزاں ہوں جب میں اکتا کر رک جاؤں گا وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر مجھ سے آنکھیں چار کرے…

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی فسانہ جگر لخت لخت ایسا تھا ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے چٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک…

زندگی سے ڈرتے ہو

زندگی سے ڈرتے ہو؟ زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں زندگی سے ڈرتے ہو؟ آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ…

اظہار اورسائی

مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤں بات کہنے کے بہانے ہیں بہت آدمی کس سے مگر بات کرے؟ بات جب حیلہ تقریب ملاقات نہ ہو اور رسائی کہ ہمیشہ سے ہے کوتاہ کمند بات کی غایت ِغایات نہ ہو ایک ذرہ کفِ خاکستر کا شرر جستہ کے مانند کبھی کسی انجانی…

دستور: میں نہیں مانتا‘ میں نہیں مانتا

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں…

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی…

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے پھر موسمِ بہار مرے گلستاں میں ہے اِک خواب ہے کہ بارِ دگر دیکھتے ہیں ہم اِک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے تابِش میں اپنی مہر و مہ و نجم سے سوا جگنو سی یہ زمیں جو کفِ آسماں میں ہے اِک شاخِ یاسمین تھی…

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا وہ جب آئے…