درد کہاں جاتے ہیں مائے -
The news is by your side.

Advertisement

درد کہاں جاتے ہیں مائے

افتخار بخاری کے شعری مجموعے پرنوٹ

شاعری کا ظہور انسانی جذبے سے ہوتا ہے۔ جب میں سوچتا ہوں کہ غزل کا ظہورکیسے ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ من بھیتر میں تسلیم ورضا کا بے پناہ جذبہ اس کا باعث ہے؛ اُس وقت جب ہم حسن کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہیں تب چاہے مسرت کا حصول ہو یا دکھ اٹھائیں۔ لیکن نظم کیوں پیدا ہوتی ہے؟ یہ بالکل ایک الگ سوال ہے۔ نظیر سے لے کر اقبال اور فیض تک اور آج تک کے تقریباً تمام اہم نظم گو شعرا تک نظم کی روایت پر نگاہ دوڑائی جائے تو اس کا جنم ایک جذبۂ پیکار سے ہوتا معلوم ہوتا ہے۔جذبۂ پیکاراپنے وجود کے معروض کو بدل دینے کی تڑپ سے لب ریزجذبہ۔

افتخار بخاری 80 کی دہائی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نظم گوشاعروں میں نمایاں نام ہے۔ کاتب تقدیر نے ان کے لیے کوئی ایسی کہانی گھڑی کہ ان کی پہلی کتاب کو منظرعام پر آنے میں پینتیس سال لگ گئے۔ ایک طرف یہ رجحان اور ایک طرف یہ کہ ابھی شاعری کی سیڑھی پر پہلا قدم دھرا پڑا ہے اورمجموعہ بھی چھپ کر آجاتا ہے۔

دو اہم نام شامل ہیں جواس کتاب ’درد کہاں جاتے ہیں مائے‘ کاتعارف کراتے ہیں۔ فلیپ پرفکشن کے جادوگر محمد حمید شاہد اور پیش لفظ کے طور پرعلینہ کے خالق علی محمد فرشی۔

میں اس کتاب کی پہلی نظم کو مرکز نگاہ بناکر یہ بتانے کی سعی کرنا چاہتا ہوں کہ اس شاعری کا جنم کہاں سے ہوا ہے اوراس سلسلے میں ان دوصاحبان کے فرمودات سے مدد لے کر اپنی بات کروں گا۔

فرشی صاحب معاصر نظم میں داخلی پیٹرن کی متنوع تشکیل کا ذکر کرتے ہیں لیکن انھوں نے افتخار بخاری کی کسی نظم میں یہ تشکیلی عمل ہمیں دکھانے سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے ان کا یہ دعویٰ ادھورا رہ گیا ہے کہ”افتخار کی نظم اسلوب کے ذریعے اپنی پہچان کراتی ہے۔“ ہاں، انھوں نے تاثراتی تجزیہ خوب کیا ہے۔

اس کتاب کی پہلی نظم ہے: ”شاعری چالاک ہوتی ہے“۔

”شاعری چالاک ہوتی ہے
بھیس بدل کرستم گروں کی
نظروں سے چھپی رہتی ہے
جب میں دوسروں کے کھیتوں میں
ہل چلاتاہوں
شاعری بھوک بن کرمیرے پیٹ میں ہوتی ہے۔

مل میں محنت کرکے
جب میں شام گھر لوٹتا ہوں
شاعری تھکن کی صورت
میرے لٹکے ہوئے بازوؤں میں ہوتی ہے
اور جب میری آنکھیں
شہر لاحاصل کے منظروں کی بیگانگی میں
بے مصرف ہوجاتی ہیں
شاعری مہربان عورت کا
روپ دھار کر
میرے خوابوں میں چلی آتی ہے۔

جب میرے ستم گر
شاعری کو پناہ دینے کاالزام لگا کر
میری تلاشی لیتے ہیں
وہ کچھ بھی برآمد نہیں کرسکتے۔
اس وقت شاعری خوف بن کر
ان کے دلوں میں ہوتی ہے“

علی محمد فرشی نے افتخاربخاری کو امیجسٹ قرار دیا ہے۔ یہ خاصا سویپنگ اسٹیٹمنٹ ہے۔ دو تین نظموں میں امیجز کی جھلک ملتی ہو تو ہو لیکن باقی شاعری ایسی سادہ بیانی سے عبارت ہے جو اپنی فنی تشکیل کے لیے شبیہ سازی کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔نظم کی تنقید میں یہ اہم نکتہ نظرانداز کیا جاتا ہے کہ اس کی اپنی ضرورت کیا ہے۔ افتخاربخاری کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی جو مجھے نظر آئی ہے، وہ یہی فنی ادرا ک ہے کہ یہاں اس شاعری کی اپنی ضرورت کیا ہے۔ یہی اس نظم گو کی فنی پختہ کاری ہے کہ جس چیزکی ضرورت ہے وہ ادراک کے دائرے میں ہے۔ تمام متن میں نظم کی اس سمت سے روگردانی نہیں کی گئی ہے۔ ایک کثیرالجہت امیج کی تشکیل بہ ہرحال نظم کے متن کو اُس سمت سے بالکل الگ راستے کی طرف لے جاتی ہے جہاں شاعری میں فکشن کا رنگ کارفرمائی دکھاتا ہے اور چوں کہ وہ شاعری ہے اس لیے نہ وہاں امیج بننے دیتا ہے نہ افسانے کافریم۔

مذکورہ بالا نظم میں ہر شے بالکل واضح ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ایک داستان گو پوری وضاحت کے ساتھ کہانی سناتاہے۔ پہلے بند میں ایک کسان کا کردار بیان کیا گیا ہے اور دوسرے میں مزدور کا جو شہر کی دوڑ میں لاحاصل بھاگتا ہے‘ جو سرمایہ دارانہ نظام کا ایندھن بناہوا ہے۔ تیسراکردار ایک میٹا نریٹو کی مانند ہے جو ہے بھی اور نہیں بھی۔ جوتمام بیانیے پر غالب نظر آتا ہے۔ جسے شاعر نے شاعری کہا ہے۔ یہ کرداردراصل ایک جذبہ ہے جو کسان اور مزدور کے ساتھ ساتھ سفرکررہا ہے‘ جس سے اہلِ اقتدارخوف زدہ ہیں۔ کیا یہ جذبہ محض داخلی نوعیت کا ہے جس کے لیے نظم میں ’شاعری‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن یہ صرف شاعری نہیں ہے، یہاں شاعری اپنے معروض کی مزاحمت کا نام ہے۔ یہاں معروض اور موضوع کا جدلیاتی عمل واضح دکھائی دیتا ہے۔ یوں اس نظم کا کلیدی اشارہ جذبۂ پیکارہے۔ لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔

محمد حمید شاہد نے اس شاعری کے داخلی پیٹرن کو زیادہ بہتر طورپر نشان زد کیا ہے‘ جس میں ابھرنے والے امیجزشاعرانہ سے زیادہ فسانوی ہیں۔ یہ ایک کہانی کی تجسیم کرتے ہیں جودکھ اور نارسائی سے عبارت ہے‘ جو بے تعبیر ہے۔ وہ چوں کہ خود ایک فسوں گر فسانہ گو ہیں، اس لیے زیادہ حیرانی کا باعث نہیں جوانھوں نے ایک شاعر کے متن کے داخلی پیٹرن کے ایک غالب اشارے کو پکڑلیا ہے۔ اس تناظر میں اس نظم کے اسلوب کا ایک اور اشارہ دیکھیے۔ متن کے داخلی پیٹرن سے جس جذبۂ پیکار کی جھلک ملتی ہے اس کی لسانی تشکیل کے تمام اشارے اس کی خوابیدہ کیفیت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ فعال جذبۂ پیکار نہیں ہے، یہ اپنی انقلابی حرکیات کی عدم فعالیت کے سبب اپنی نارسائی کو دکھ بناکر زیست کررہا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ شاعری ہمارے سماج میں عدم فعال جذبوں کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے‘ یہیں اس شاعری کا جنم ہوتا ہے۔ اسی کی طرف حمید شاہد اشارہ کرتے ہوئے نظم (شاعری) پر اتنا بڑا الزام دھرتے ہیں کہ:”جس خواب کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی، اس کی آخری پناہ گاہ کہانی نہیں، ایک نظم ہوتی ہے۔“ مذکورہ نظم اور دیگر کئی ساری نظمیں اس الزام کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم نظم کی اس توہین آمیز بے سمتی پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقتاً یہ نظم ہی ہے جوایک بے خواب دنیا میں جنم لیتی ہے اور اسے خواب دیکھنا سکھاتی ہے اور اسے تعبیر کاشعور عطاکرتی ہے۔

سب سے اہم نکتہ جو افتخاربخاری کی ان نظموں میں کھوجا جانا ہے، یہ ہے کہ ان کا داخلی پیٹرن نظمیت کو اپنی تشکیل کا کہاں تک حصہ بناسکا ہے۔ فی الوقت تو اسے کلیشے زدہ طرز اظہار کی نمایندہ شاعری کہا جاسکتا ہے۔ دیکھیں:
نظم دوسری یاد: جدائی کا بے انت کہرا‘ فراموش ستارے‘ عہد رفتہ کی گردآلود آوازیں‘ مہذب جہنم‘ لہومیں بہتی آتش۔
نظم آدمی: دیارغیر‘ پیالیوں سے اٹھتی بھاپ‘ بھید کھولنا‘ آنکھوں سے درد امنڈنا۔
نظم زمین پر ایک دن: دل کا خموشی سے محو گفتگو ہونا‘ گلیوں کا بھٹکنا‘ کاسۂ گدائی‘ یہ سامنے کا عام خیال کہ اگر دن کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ملے گی یا کام یابی۔
غرض ہرنظم کی تشکیل اس طرح کی نہایت ہی مستعمل یا سامنے کی تراکیب سے ہوئی ہے۔
علی محمد فرشی نے بالکل صائب اشارہ دیا ہے کہ ڈکشن افتخاربخاری کا مسئلہ نہیں ہے‘ یقیناً یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری بیان اور خیال کی ندرت سے تہی محسوس ہوتی ہے۔ڈکشن محض لفظوں کی کرتب بازی نہیں، ذہین تخلیق کار کے لیے جہان ِمعنی کے نئے در وا کرنے کاراستہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس شاعری میں ان کا کوئی منفردلہجہ تشکیل نہیں پایا۔

اس مجموعے میں جونظم مجھے سب سے زیادہ پسند آئی، آپ بھی ملاحظہ کریں:

سفرمیں نیند کی خواہش

سنو!
جب تم کسی لمبے سفرپر جارہی ہو
ریل گاڑی بے کشش، بے رنگ
رستوں سے گزرتی ہو
مسافت کی طوالت سے
تم اکتانے لگو
اورپھراچانک نیند آجائے
سہاناخواب دیکھو
اور جب جاگو
تو یہ جانو
کہ لمبا راستہ طے ہوچکا ہے
تو بڑی راحت سی ملتی ہے
مرے حق میں تمھاری آرزو بھی
زندگانی کے سفر میں
نیند کی خواہش تھی
لیکن کیا کروں
مجھ کو سفر میں نیند آئے بھی
تو جلدی جاگ جاتا ہوں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں