The news is by your side.

Advertisement

فرانس:پولیس نے سپرمارکیٹ پر حملہ کرنے والے شخص کوہلاک کردیا

پیرس: جنوبی فرانس کی سپر مارکیٹ میں حملہ کرنے والے مسلح نوجوان کو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کردیا، جبکہ کارروائی کے دوران ایک پولیس افسر شدید زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز فرانس کے علاقے ٹریبس میں واقع سپر مارکیٹ پر ایک مسلح شخص نے قبضہ کرکے اندر موجود افراد کو یرغمال بنا کر 3 افراد کو ہلاک جبکہ 16 شہری زخمی ہوئے تھے زخمی افراد میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیراڈ کولمب کے مطابق 45 سالہ لیفٹیننٹ کرنل آرناؤڈ نے حملہ آور سے ایک خاتون کے بدلے خود کو مغوی بنانے کی پیشکس کی۔

خاتون کی رہائی کے بعد لیفٹیننٹ خود اندر چلا گیا اور اس دوران اس نے اپنا فون آن رکھا تاکہ پولیس فون کال کے ذریعے اندرونی صورتحال کا جائزہ لے سکے۔ اندر جانے کے بعد حملہ آور نے لیفٹیننٹ پر فائر کیا جس کے فوری بعد پولیس سپر مارکیٹ کے اندر گھس آئی اور جوابی فائرنگ میں حملہ آور کو ہلاک کردیا۔

سپر مارکیٹ حملہ میں مسلح شخص کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا لیفٹیننٹ کرنل آرناؤڈ بیلٹرامی

دہشت گرد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے لیفٹیننٹ کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ آپریشن کے بعد لیفٹیننٹ کو ہیرو قرار دیا گیا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ نے حملہ آور کا نام ریدوین لدیم اور عمر 26 برس بتائی ہے جس نے دعوی کیا تھا کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر داخلہ جیراڈ کولمب کا کہنا تھا کہ فرانس کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس حملہ آور کا ماضی میں کیے گئے جرائم کا ریکارڈ موجود تھا تاہم ان کا خیال تھا کہ وہ صرف منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں ہی ملوث ہے اور انتہاپسندی کی جانب مائل نہیں ہے۔

تفتیشی افسران کا یہ خیال ہے کہ مذکورہ حملہ آور نے تین مختلف واقعات میں لوگوں کو زخمی اور ہلاک کیا تھا۔

جیراڈ کولمب کا کہنا تھا کہ حملہ آور خودکار ہتھیاروں سے لیس تھا اور نومبر 2015 میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث اہم حملہ آور صالح عبدالسلام کی رہائی کا مطالبہ کررہا تھا۔

فرانس کے وزیر اعظم نے حملے کے بعد ملکی صورتحال کو ’سنگین‘ قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ کارروائی دہشت گردی پر مبنی اقدامات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

خیال رہے کہ پہلا حملہ سپر مارکیٹ سے 15 منٹ کی مسافت پر کارکیسون نامی علاقے میں ایک پولیس اہلکار پر ہوا جو اس وقت گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا جب وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ جاگنگ کر رہا تھا۔ پولیس اہلکار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے سپر مارکیٹ میں پہنچ کر چیخ کر کہا کہ ’میں داعش کا سپاہی ہوں اور میں نے چھوٹے سے قصبے میں سپر مارکیٹ میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ تین سالوں میں فرانس میں متعدد شدت پسندانہ حملے ہوچکے ہیں، سنہ 2015 میں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں دو حملوں کے دوران 148 شہری ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد ملک میں صورتحال ہائی الرٹ پررہی ہے۔

یاد رہے کہ سال 2016 میں تین حملوں کے دوران دو پولیس افسران سمیت 88 لوگ ہلاک ہوئے تھے، جبکہ پچھلے سال داعش نے ریلوے اسٹیشن سے مردہ حالت میں پائی جانے والی دو خواتین کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں