The news is by your side.

Advertisement

امریکی کمپنیوں نے غریب عوام کے خون کی برآمد شروع کردی

واشنگٹن : امریکا کے غریب اور محنت کش شہریوں نے اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کےلیے اپنا خون فروخت کرنا شروع کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے معیشت کو کافی مضبوط کردیا تھا لیکن شہری ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد ایک مرتبہ پھر مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔

امریکا کے 40 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں غذائے خورد و نوش، رہائش، یوٹیلٹی اور صحت کی سہولیات کی ادائیگی کےلیے سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکیوں کے حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ انہوں نے اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کےلیے اپنا خون بیچنا شروع کردیا ہے۔

امریکا کی چند خون آشام کارپوریشنز حقیقت میں لوگوں کا خون چوس کر دنیا بھر میں فروخت کرتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں خون کی طلب اور رسد کی وجہ سے کلیکشن سنسرز کی تعداد 14، 15 برسوں میں دوگنی ہوگئی ہے، امریکا کی برآمدات کا دو فیصد سے بھی زیادہ خون کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ مکئی کی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقم سے زیادہ ہے۔

دنیا کے اکثر ممالک میں خون کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے لیکن امریکا میں ہفتے میں دو بار قانونی طور پر پلازما کو ڈونیٹ کیا جاسکتا ہے اور عطیہ دینے والے شخص کو ہر بار 30 دئیے جاتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پلازمہ کی طلب کا 70 فیصد حصّہ امریکا پورا کرتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی امریکی پلازما کا 15 فیصد خریدتا ہے اور اس کے دوسرے خریداروں میں چین اور جاپان بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا ہے کہ 2016 اور 2017 کے درمیان امریکیوں نے اتنا زیادہ خون فروخت کیا کہ اس کی برآمدات میں 13 فیصد سے زیادہ ہوگیا۔ جس کے باعث خون کی برآمدات 28.6 ارب ڈالر ہو گئی۔

ایک اور تحقیق کے مطابق کلیولینڈ میں خون کا عطیہ دینے والے اپنی آمدن کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اپنا خون فروخت کرکے کماتے ہیں۔

خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ خون کی خرید اور فروخت کی صنعت امریکا کی تیزی سے پھلتی پھولتی صنعتوں میں سے ایک ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں