آوارہ بلی نے نومولود کو مرنے سے بچا لیا -
The news is by your side.

Advertisement

آوارہ بلی نے نومولود کو مرنے سے بچا لیا

ماسکو: روس کی ہڈیاں جمادینے والی سخت سردی میں ایک آوارہ بلی نے نومولود کی جان بچالی جسے مرنے کے لیے سڑک پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

ماشا نامی یہ بلی روز کی طرح اپنے لیے خوراک ڈھونڈنے نکلی تو اسے راستے میں کچھ ڈبے نظر آئے۔ فطری طور پر ماشا نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈبے میں جھانکا تو اسے نہایت حیرت انگیز نظارہ دیکھنے کو ملا۔

ڈبے کے اندر ایک نومولود بچہ موجود تھا جو سخت سردی میں بے یار و مددگار پڑا ہوا تھا۔

بچے کو دیکھ کر ماشا کے اندر کی ممتا جاگ اٹھی۔ اس نے بچے کو سردی سے بچانے کے لیے اپنے نرم فر میں دبوچ لیا اور اس کے ساتھ ہی زور زور سے چیخنے لگی تاکہ کسی کو متوجہ کرسکے۔

خوش قسمتی سے ماشا کے لیے مخصوص رہائش کے قریب ایک بوڑھی خاتون ماشا کا انتظار کر رہی تھیں کہ وہ آئے اور روز کی طرح ان سے ملے۔

جب کافی دیر تک ماشا وہاں نظر نہیں آئی تو خاتون کو شبہ گزرا کہ کہیں وہ کسی مشکل کا شکار نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے قریبی آس پاس کے مقامات پر اسے ڈھونڈنا شروع کیا۔

جلد ہی انہیں ماشا کے چیخنے کی آواز سنائی دے گئی اور وہ آواز کے تعاقب میں اس جگہ پہنچیں تو وہاں کا منظر ان کے لیے حیران کن تھا۔

ماشا نے بچے کو سردی سے بچانے کے لیے اپنے ساتھ لپیٹا ہوا تھا۔ بچے کے ساتھ کچھ ڈائپرز اور بچوں کے کھانے کی اشیا بھی موجود تھیں۔

خاتون سمجھ گئیں کہ بچے کو اس کے والدین نے یہاں چھوڑا ہے جس کے بعد انہوں نے متعلقہ حکام کو اطلاع کی۔ جب ایمبولینس وہاں پہنچی تو بدقسمتی سے ماشا کو اس کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

تاہم ماشا ایمبولینس کے پیچھے بھاگتی ہوئی اسپتال پہنچ گئی۔ وہاں بچے کو فوری طور پر ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران ماشا گھنٹوں اسپتال میں بیٹھی اس راستے کو تکتی رہی جہاں سے بچے کو لے جایا گیا تھا۔

مذکورہ خاتون نے بتایا، ’ماشا بہت پریشان تھی کہ ہم بچے کو کہاں لے کر جارہے ہیں۔ بالآخر جب ڈاکٹرز نے بچے کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دے دیا، اور ماشا کو شیشے میں سے بچے کی جھلک دکھلائی گئی تو وہ پرسکون ہوگئی‘۔

اس دن کے بعد سے ماشا مقامی افراد میں بہت مقبول ہوگئی اور ہر شخص اس کی نرم دلی و ہمدردی سے بے حد متاثر ہوا۔ اب پورا علاقہ ماشا کا خیال رکھتا ہے اور اسے اس کے پسندیدہ کھانے دیتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں