The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں کم از کم اجرت بڑھا دی گئی

سعودی عرب میں 50 سال سے زائد عمر کے ملازمین کے لیے کم از کم نئی اجرت کا نفاذ کر دیا ‏گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے سعودی ورکرز کے لیے کم از کم اجرت 4 ہزار ریال ‏مقرر کی گئی ہے۔

اس سے قبل کم از کم اجرت 3 ہزار ریال تھی تاہم گزشتہ سال اس میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا ‏اور اب اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس نے 50 سال سے زائد عمر کے سعودی ورکرز کے لیے کم از ‏کم اجرت 4 ہزار ریال کا نفاذ کر دیا ہے۔

چار ہزار ریال سے کم تنخواہ پانے والے سعودی ورکرز کو سعودی نیشنلائزیشن پروگرام کے تحت ‏نصف ورکر شمار کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے ہوٹلوں اور دیگر اداروں میں فی گھنٹہ اجرت کا قانون متعارف کروایا تھا، قانون ‏متعارف کرانے کا مقصد سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنا ہے۔

سعودی وزارت افرادی قوت کے مطابق ’سافٹ روزگار سسٹم ‘ (نظام العمل المرن) سے نجی شعبے ‏کو کافی فائدہ ہوگا جس کے تحت انہیں نہ صرف سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنا آسان ہوجائیں ‏گے بلکہ کارکن کے دیگر حقوق بھی انکے ذمہ نہیں ہونگے۔

ورکنگ سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے وزارت افرادی قوت کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کے تحت آجر ‏سعودی کارکنوں کی خدمات ’فی گھنٹہ‘ اجرت کے تحت حاصل کرسکیں گے۔

ویب نیوز ’سبق‘ نے وزارت افرادی قوت کے حوالے سے مزید کہا کہ اس سسٹم کے تحت کمپنیوں ‏میں سعودی کارکن عارضی اور وقتی بنیاد پر حاصل کیے جاسکیں گے، اور نظام العمل المرن کے ‏تحت حاصل کیے گئے کارکن کو ’نطاقات ‘ پروگرام میں ایک تہائی حصہ کے طور پر شمار کیا جائے ‏گا جو آجر کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا
رجسٹریشن کا طریقہ کار

سعودی حکام کے مطابق سافٹ پروگرام کو وزارت افرادی قوت کی ویب ’ایم آر این ڈاٹ ایس اے‘ ‏کے ذریعے رجسٹر کرایا جائے گا جس کے بعد اسے ابشر اور سوشل انشورنس سے منسلک کیاجائے ‏گا تاکہ آجر و اجیر کے حقوق محفوظ رہیں۔

وزارت افرادی قوت کا مزید کہنا تھا کہ اس سسٹم کے تحت ہوٹل، ریسٹورنٹس ، کیفےٹیریاز، فٹنس ‏سینٹرز ، تفریحی مقامات، میڈیا اینڈ مارکیٹنگ، لا فرم، ٹیکنیکل ادارے، سیاحت اور شعبہ ٹرانسپورٹ ‏اور ہوم ڈلیوری سروسز کے ادرے مستفیض ہوسکتے ہیں-‏

Comments

یہ بھی پڑھیں