The news is by your side.

Advertisement

کرونا مریضوں میں موت کا خطرہ 74 فیصد تک بڑھنے کی وجہ سامنے آگئی

واشنگٹن: دنیا بھر میں کرونا کے شکار بیشتر مریضوں میں دیگر سنگین بیمایاں اور پیچیدگیاں دیکھی گئی ہیں لیکن ان میں ایک مرض کرونا کے شکار فرد میں موت کا خطرہ 74 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بلڈ کلاٹس سے کرونا کے مریض میں موت کا خطرہ 74 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، یہ بیماری کووڈ 19 اور خون گاڑھا ہونے یا بلڈ کلاٹس سے بھی جڑی ہے۔ مریضوں میں بلڈ کلاٹس کا مسئلہ وبائی مرض کے نیتجے میں بھی پیدا ہوتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل ای کلینیکل میڈیسن بای دی لانسیٹ میں شایع ہوچکی ہے۔ اس ریسرچ میں ماہرین نے 42 مختلف تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا جن میں کووڈ 19 کے 8 ہزار سے زیادہ مریضوں شامل تھے۔

ان مریضوں میں وہ افراد جو بلڈ کلاٹس کا شکار تھے اور وہ جو اس سے محفوظ رہے ان میں اموات کی شرح دیکھی گئی جس سے دریافت ہوا کہ بلڈکلاٹس سے محفوظ مریضوں کے مقابلے میں اس کے شکار کووڈ 19 کے مریض میں اموات کی شرح بہت زیادہ تھی جبکہ مریضوں کی رگوں اور شریانوں میں خون کی بندش کا غیرمعمولی رجحان بھی دیکھا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں نظام تنفس کے امراض میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، مجموعی طور پر کووڈ 19 کے 20 فیصد مریضوں کی رگوں میں بلڈکلاٹس موجود تھیں جبکہ آئی سی یو میں موجود مریضوں میں یہ شرح 31 فیصد تھی، اور تخمینہ لگانے پر پتا چلا کہ ان میں موت کی شرح سب سے زیادہ تھی۔

کون سے ماسک کرونا کے خلاف پُر اثر ہوسکتے ہیں؟

خیال رہے کہ بلڈ کلاٹس کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور شریانوں میں اس کا بہاؤ سست ہوجاتا ہے، ایسا عام طور پر ہاتھوں اور پیروں میں ہوتا ہے مگر پھیپھڑوں، دل یا دماغ کی شریانوں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ طویل المعیاد کرونا علامات میں بلڈ کلاٹس کا مسئلہ ہمیشہ سے زیربحت رہتا ہے۔

یہ بیماری مریضوں کو موت کے علاوہ دیگر سنگین امراض کا بھی شکار کرسکتی ہے، کرونا مریضوں میں پائی جانے والی بلڈ کلاٹس کی قسم کو ماہرین نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ بلڈ کلاٹس مریض کے پھیپھڑوں اور دل کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، خون کے اس مسئلے کے نتیجے میں گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں