The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں کام کرنے والے غیرملکیوں کے لیے خطرہ، ملازمت کے دروازے بند

ریاض: سعودی عرب میں کام کرنے والے غیرملکیوں کے لیے بری خبرسامنے آگئی، ملازمت کے مختلف شعبوں میں اب غیرملکی کی جگہ سعودی کام کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے دو مختلف شعبوں کے دروازے اب غیرملکیوں کے لیے بند ہوں گے، وہاں مقامی سعودی کام کریں گے، غیرملکیوں کو مذکورہ شعبوں میں کام کرنے کے لیے ویزا فراہم نہیں کیا جائے گا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں ہوٹل اور فرنشڈ اپارٹمنٹس وہ دو شعبے ہوں گے جہاں غیرملکیوں کو نوکریاں نہیں ملیں گی، سعودائزیشن کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت اسپیشلسٹ اور کلیدی پیشوں کے عہدے سعودی شہریوں کو دیے جائیں گے۔

سعودی ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنٹس کے دفتری اسامیوں کی کلیدی عہدوں پر غیر ملکیوں کی جگہ اب سعودی تعینات ہوں گے، جس پر عمل درآمد کا آغاز گزشتہ روز سے کیا جاچکا ہے، مرحلہ وار غیرملکیوں کو فارغ کیا جائے گا، اور خالی ہونے والی اسامیوں پر مکمل طور پر سعودی کام کریں گے۔

البتہ سامان اٹھانے والے، کار پارکنگ کرانے والے ڈرائیور اور گیٹ کیپر اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

سعودی وزیر محنت و سماجی بہبود انجینیئر احمد بن سلیمان الراجحی نے سعودائزیشن کی قرارداد کی منظوری دی ہے، جس کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں غیرکلیدی عہدوں پر سعودی تعینات کیے جائیں گے، بعد ازاں جزوی کلیدی اور پھر کلیدی عہدوں پر سعودی بٹھائے جائیں گے۔

غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اعلیٰ اسامیوں کے بڑے عہدوں کو چھوڑ کر غیرکلیدی شعبوں میں سعودی خواتین بھی تعینات کی جائیں گی۔ جبکہ مذکورہ پیشوں سے فارغ کیے گئے غیر ملکیوں کا نقل کفالہ بھی نہیں ہوگا۔ قرارداد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں